ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بیف سے متعلق قابل اعتراض تبصرہ کے الزام میں گرفتار منہاج انصاری کی پولیس حراست میں موت ، جانچ کا حکم

جھارکھنڈ میں بیف پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار ایک مسلم نوجوان کی پولیس حراست میں مشتبہ موت ہوگئی ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Oct 12, 2016 05:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بیف سے متعلق قابل اعتراض تبصرہ کے الزام میں گرفتار منہاج انصاری کی پولیس حراست میں موت ، جانچ کا حکم
Representative image

رانچی: جھارکھنڈ میں بیف پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار ایک مسلم نوجوان کی پولیس حراست میں مشتبہ موت ہوگئی ہے۔ لڑکے کے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ اس کے بیٹے کی موت پولیس کی زد و کوب اور ذہنی طور پر ہراساں کئے جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دو اکتوبر کو 22 سالہ منہاج انصاری کو پولیس نے بیف سے متعلق واٹس ایپ پر ایک قابل اعتراض پوسٹ سرکولیٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ منہاج کی 9 اکتوبر کو راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں موت ہوگئی ۔ منہاج کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس حراست میں اسے کافی زدوکوب کیا گیا اور اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ منہاج کے دماغ میں سوجن تھی ، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے ۔ تاہمپولیس حکام نے یہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جانچ کر رہے حکام نے کچھ 'گڑبڑ ضرور کی ہے ۔

دریں اثنا نارائن پورہ پولیس اسٹیشن کے آفیسر ان چارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ضلع مجسٹریٹ نے ایس ڈی او اور ایس ڈی پی او کی ایک مشترکہ جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق وزیر اعلی رگھوور داس نے منہاج کے اہل خانہ کیلئے دو لاکھ روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔

First published: Oct 12, 2016 05:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading