உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم طالبات انوکھا احتجاج، لڑکویں نے حجاب پہن کر کھیلا فٹ بال اور کرکٹ

    hijab row: مسلم طالبات ( Muslim students) نے حجاب پہن کر نہ صرف فٹبال اور کرکٹ میچ کھیلا بلکہ حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو یہ پیغام بھی دیاکہ حجاب ان کی ہمہ جہت نشوو نما اور ترقی کی راہ میں کہیں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ وہ حجاب پہن کر وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دوسرے کام کو بھی بحسن وخوبی انجام دے سکتی ہیں ۔

    hijab row: مسلم طالبات ( Muslim students) نے حجاب پہن کر نہ صرف فٹبال اور کرکٹ میچ کھیلا بلکہ حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو یہ پیغام بھی دیاکہ حجاب ان کی ہمہ جہت نشوو نما اور ترقی کی راہ میں کہیں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ وہ حجاب پہن کر وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دوسرے کام کو بھی بحسن وخوبی انجام دے سکتی ہیں ۔

    hijab row: مسلم طالبات ( Muslim students) نے حجاب پہن کر نہ صرف فٹبال اور کرکٹ میچ کھیلا بلکہ حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو یہ پیغام بھی دیاکہ حجاب ان کی ہمہ جہت نشوو نما اور ترقی کی راہ میں کہیں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ وہ حجاب پہن کر وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دوسرے کام کو بھی بحسن وخوبی انجام دے سکتی ہیں ۔

    • Share this:
    ملک کی دوبڑی ریاست کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں حجاب (karnataka hijab controversy) کو لیکر جہاں سیاسی گھمسان جاری ہے وہیں راجدھانی بھوپال میں مسلم طالبات نے حجاب کو لیکر انوکھنے ڈھنگ میں اپنا احتجاج درج کروایا۔ مسلم طالبات نے حجاب پہن کر نہ صرف فٹبال اور کرکٹ میچ کھیلا بلکہ حجاب کی مخالفت کرنے والوں کو یہ پیغام بھی دیاکہ حجاب ان کی ہمہ جہت نشوو نما اور ترقی کی راہ میں کہیں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ وہ حجاب پہن کر وہ اپنی تعلیم کے ساتھ دوسرے کام کو بھی بحسن وخوبی انجام دے سکتی ہیں ۔
    بھوپال کے اندرا پریہ درشنی کالج کے گراؤنڈ پر آج دوپہر ہر اس شخص کی نگاہیں ٹھہر گئیں جو اس راہ سے گزر رہا تھا۔ حجاب میں لڑکیوں کو اسکول اور کالج جاتے وقت تو بہت سے لوگوں نے دیکھا ہوگا لیکن حجاب پہن کر کرکٹ اور فٹبال بھی کھیلا جا سکتا ہے اسے دیکھنے کا موقعہ آج ملا۔ اندرا پریہ درشنی گراؤنڈ میں طالبات کی ایک جماعت حجاب میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھی تو دوسری جماعت میں مسلم طالبات میں حجاب میں فٹبال کے ماہر کھیلاڑیوں کی طرح اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں ۔
    بی کام کی طالبہ بشری خان کہتی ہیں کہ جو لوگ حجاب میں مسلم لڑکیوں کی پسماندگی کی بات کرتے ہیں ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ حجاب ہماری ہمہ جہت نشو ونما میں کہیں روکاوٹ نہیں ہے۔ ہم جس خوبی سے حجاب میں اپنے سارے کام انجام دیتے ہیں اسی طرح سے آج ہم نے میدان میں فٹبال کا میچ بھی کھیلا ہے۔ حجاب عورت کا پردہ ہے اور یہ پردہ کسی ایک مذہب میں نہیں بلکہ سب میں ہے ۔ ہندو بہنیں ہماری گھونگھٹ کرتی ہے تو مسلم خواتین حجاب لگاتی ہیں ۔ہم اپنے آئینی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرینگے ۔دستور میں ہمیں اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق دیا گیا ہے۔حکومت کو چاہیئے کو وہ تعلیم کے معیار پر فوکس کرے۔ملک میں جب کوالٹی ایجوکیشن کی بات کی جاتی ہے تو مدھیہ پردیش کا کہیں بھی شمار نہیں ہوتا ہے ۔

    وہیں گیارہویں کلاس کی طالبہ بینش مہتاب کہتی ہیں کہ پردہ ان مردوں کی عقل پر پڑگیا ہے جو ایک جانب لڑکیوں کے پڑھنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن جب لڑکیاں گھر سے اپنے تشخص کے ساتھ حجاب میں پڑھنے کے لئے جاتی ہیں تو انہیں گراں گزرتا ہے ۔ در اصل حکومت میں بیٹھے لوگوں کوحجاب نہیں بلکہ مسلم لڑکیوں میں تعلیم کے بڑھتے رجحان سے پریشانی ہے ۔ آپ سب نے دیکھا کہ یہاں پر ہونے والے کرکٹ اور فٹبال کے میچ میں ایک دو لڑکیاں نہیں بلکہ بڑی تعداد میں لڑکیوں نے شرکت کی اور کرکٹ و فٹبال کے میچ میں حجاب پہن کر اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا ہے۔میں نے کرکٹ کھیلا اور کرکٹ کی امپائر بھی رہی ہوں ۔ مجھے معلوم ہوا کہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے حجاب کو لیکر بے تکے بیان دینے پر وزیر تعلیم کی سرزنش کی ہے ۔اور سرزنش کی بھی جانا چاہییے تاکہ ملک میں آئین کی بالا دستی قائم رہے ۔وزیر موصوف نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: