உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم پی میں حکومت کے موقف کیخلاف حجاب پر پابندی، اسکالرشپ کیمپ میں Hijab میں پہنچی طالبات کو لیکر ہنگامہ

    ستنا کے بعد دتیا ڈگری کالج میں حجاب قرار دیا گیا ممنوع

    ستنا کے بعد دتیا ڈگری کالج میں حجاب قرار دیا گیا ممنوع

    پہلے ستناکے ڈگری کالج میں حجاب میں امتحان دینے جانے والی طالبہ رخسانہ بیگم سے معافی لکھوانے کے بعد اسے امتحان دینے کی اجازت دی گئی اب مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کے اسمبلی حلقہ دتیا کے سرکاری کالج میں حجاب پر پابندی کا تحریری فرمان جاری کردیا گیا ہے۔

    • Share this:
    Hijab Controversy: مدھیہ پردیش میں حجاب پر پابندی اور ڈریس کوڈ کے نفاذ کو لیکر بھلے ہی شیوراج سنگھ حکومت نے سبھی خبروں کو خارج کردیا ہولیکن حکومت کے موقف کے خلاف مدھیہ پردیش کے سرکاری کالجوں میں حجاب پر پابندی کا عمل جاری ہے ۔ پہلے ستناکے ڈگری کالج میں حجاب میں امتحان دینے جانے والی طالبہ رخسانہ بیگم سے معافی لکھوانے کے بعد اسے امتحان دینے کی اجازت دی گئی اب مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کے اسمبلی حلقہ دتیا کے سرکاری کالج میں حجاب پر پابندی کا تحریری فرمان جاری کردیا گیا ہے۔

    دتیا کے سرکاری ڈگری کالج میں منعقدہ اسکالرشپ کیمپ میں دو طالبات اسکالرشپ فارم کے لئے حجاب میں کالج کیمپس گئیں تو وہاں پر بجرنگ دل اور درگا واہنی کےکارکنان نہ صرف ہنگامہ کیا بلکہ کالج انتظامیہ سے حجاب میں آنےوالی طالبات کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا وہیں کالج پرنسپل کی جانب سے حجاب میں کالج میں آنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
    دتیا بجرنگ دل کے فعال کارکن ایس ایس ترویدی کہتے ہیں کہ سرکاری کالج میں مخصوص مذہب کے لوگوں کو حجاب کے نام پر مذہب کا پرچار کرنے کی آزادی نہیں جا سکتی ہے ۔اگر کالج انتظامیہ نے اس پر فوری طور پر روک نہیں لگائی تو اس کے خلاف بجرنگ بڑی تحریک چلائے گا۔اور اگلے دن سے سبھی طلبا بھگوا کپڑے میں آئینگے اور ہمارے جو طالب علم ناگا سادھو بننے کے دکشا لے چکے ہیں وہ ناگا بھیش میں یہاں آئیں گے ۔اس کے بعد سماج اور انتظامیہ ہمیں جواب دہ نہیں ٹھہرائے گا۔

    وہیں جب دتیا کالج کے پرنسپل ڈی آر راہل سے جب نیوز ایٹین اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مندر میں کوئی اس طرح کا لباس پہن کر نہیں آئے گا جس میں حجاب ہوتا ہے اور اس تعلق سے ہم نے نوٹس کالج کیمپس میں چسپاں کردیا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: