ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں تاریخی عمارتوں کی حفاظت کا ہوگا کام

مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کہتی ہیں کہ جب سے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے ، تاریخی وراثت کو بچانے کا کام جاری ہے۔ آج اگر صوبہ میں تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں تو اس کے لئے سابقہ کانگریس حکومتیں ذمہ دار ہیں ، جنہوں نے عوامی فلاح ، تاریخی وراثت کو بچانے کو چھوڑ کر صرف لوٹنے کا کام کیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں تاریخی عمارتوں کی حفاظت کا ہوگا کام
بھوپال کے بینظیر پیلس کے برج کی تصوہر ۔

تاریخی عمارتیں مہذب قوموں کا بیش قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ۔ بیدار ذہن لوگ اپنی وراثت کو نہ صرف سنبھال کر رکھتے ہیں بلکہ انہیں اس طرح سنوار کر رکھتے ہیں کہ آئندہ نسلیں بھی اسے دیکھیں اور اپنے قیمتی تاریخی وراثت کو سنبھالنے کا ان میں ذوق و شوق پیدا ہو۔ مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر، بھوپال، گوالیار، جبلپور، اندور، دھار، چندیری ، مانڈو، برہانپور، اورچھا، رائسین و دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں تاریخی وراثت تو موجود ہیں ، مگر حکومتوں کی ان کی جانب کوئی توجہ نہیں ہے ۔ سچ پوچھا جائے تو مدھیہ پردیش کے قیام کے بعد ہماری حکومتوں نے ریاست کی تاریخی عمارتوں کو تزین کاری کا کوئی منصوبہ بند خاکہ تیار ہی نہیں کیا ، جس کے سبب نہ صرف بیشتر تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہوگئیں اور ان میں سے تو کتنی تاریخی عمارتوں کا تو اب وجود بھی نہیں ہے ۔ مدھیہ پردیش کی تاریخی عمارتوں کی تزئین کاری اور انہیں زندگی دینے کے مطالبے کو لے کر بھوپال کی سماجی تنظیموں نے ایک بار پھر اپنی مہم تیز کردی ہے ۔


بھوپال جو ریاستی عہد میں بھی نواب کا دارالحکومت رہا ہے اور اب بھی مدھیہ پردیش کا دارالحکومت ہے ۔ یہاں پر دوسو بتیس کے قریب تاریخی عمارتیں تھیں ، مگر ان میں سے چند کو چھوڑ کر باقی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ سماجی تنظیمیں چاہتی ہیں کہ صرف راجدھانی بھوپال ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں موجود تاریخی عمارتوں کو بچانے کا کام کیا جائے ۔ تاکہ ہمارا قیمتی تاریخی ورثہ محفوظ ہوسکے ۔


سدبھاؤنا منچ کے اہم رکن مفتی اسمعیل کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری حکومتیں تاریخی عمارتوں کی اہمیت سے ناواقف ہیں ۔ اگر حکومتیں تاریخی عمارتوں کی اہمیت سے واقف ہوتی تو مدھیہ پردیش کے قیام کے بعد ان کے تحفظ کا منصوبہ بند طریقے سے کام ہوتا ۔ صرف بھوپال ہی نہیں ، گوالیار، اندور، جبلپور، مانڈو، دھار، چندیری، رائسین وغیرہ کی تاریخی عمارتوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ حکومتیں ان کی تزئین کاری کردیں تو نہ صرف سیاحت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔ ہم لوگوں نے جس میں جمیعت علما ایم پی ، سدبھاؤنا منچ ، مسلم ویلفیئر اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے نمائندہ وفد نے مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر سے ملاقات کرکے اس جانب توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر موصوفہ نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ اس جانب کام کیا جائے گا۔


مدھیہ پردیش کی تاریخی عمارتوں کی تزئین کاری اور انہیں زندگی دینے کے مطالبے کو لے کر بھوپال کی سماجی تنظیموں نے ایک بار پھر اپنی مہم تیز کردی ہے ۔
مدھیہ پردیش کی تاریخی عمارتوں کی تزئین کاری اور انہیں زندگی دینے کے مطالبے کو لے کر بھوپال کی سماجی تنظیموں نے ایک بار پھر اپنی مہم تیز کردی ہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر کہتی ہیں کہ جب سے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے ، تاریخی وراثت کو بچانے کا کام جاری ہے۔ آج اگر صوبہ میں تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں تو اس کے لئے سابقہ کانگریس حکومتیں ذمہ دار ہیں ، جنہوں نے عوامی فلاح ، تاریخی وراثت کو بچانے کو چھوڑ کر صرف لوٹنے کا کام کیا ہے ۔ مدھیہ پردیش ہردلعزیز وزیر اعلی شیوراج سنگھ کی قیادت میں اس پہلو پر کام کر رہی ہے ۔ کچھ شہروں میں کام شروع ہوچکا ہے ۔ بھوپال میں بھی منصوبہ بند طریقہ سے تاریخی عمارتوں کو سنوارنے کا کام ہوگا ۔ منٹو ہال کو ہماری سرکار نے نئی زندگی دی ہے ۔ وراثت کی حفاظت ہمارے مشن کا حصہ ہے اور یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 29, 2020 11:00 PM IST