உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مذہبی منافرت کو بند نہیں کیاگیا تو بکھر جائے گا ملک کا شیرازہ

    مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے سد بھاؤنا سنسد  میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ ملک میں دھرم سنسد کا انعقاد کرکے مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔

    مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے سد بھاؤنا سنسد میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ ملک میں دھرم سنسد کا انعقاد کرکے مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔

    مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے سد بھاؤنا سنسد میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ ملک میں دھرم سنسد کا انعقاد کرکے مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    ملک میں بڑھتی مذہبی منافرت کو ختم کرنے اور آپسی اتحاد کی فضا کو فروغ دینے کی غرِض سے جمعیت علما کے زیر اہتمام  سدبھاؤنا سنسد کا انعقاد کیاگیا۔ جمیعت علما کے زیر اہتمام سدبھاؤنا سنسد کا انعقاد ملک کی دیگر ریاست کے ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی کیاگیا۔ مدھیہ پردیش میں راجدھانی بھوپال سمیت پندرہ شہروں میں منعقدہ سد بھاؤنا سنسد میں بلا لحاظ تفریق مذہب وملت سبھی قوموں کے لوگوں نے شرکت کی اور سد بھاؤنا سنسد کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے اور محبت کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔
    مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے سد بھاؤنا سنسد  میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ ملک میں دھرم سنسد کا انعقاد کرکے مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ دنیا کے سبھی مذاہب آپسی اتحاد واتفاق کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ سدبھاؤنا سنسد اس لئے منعقد کی گئی ہے تاکہ ملک میں رہنے والی سبھی قوموں کے بیچ آپسی اتحاد کی فضا کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ آغاز ہے اور اس میں جس طرح سے سبھی لوگوں نے اپنی بے لوث مخبت  دکھائی ہے اس سے ہمیں حوصلہ ملا اور ہمارا یہ کارواں جاری رہے گا۔ منافرت پھیلانے والے ملک میں چند لوگ ہیں جبکہ محبت کرنے والوں کی کثرت ہے اور یہ ملک آپسی اتحاد سے ترقی کرے گا مذہبی منافرت سے نہیں ۔
    وہیں چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے سدبھاؤنا سنسد میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سدبھاؤنا سنسد تب تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے جب تک مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی سرزنش نہ کی جائے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگ جو امن پسند ہیں اور ملک کی یکجہتی و سلامتی کے لئے ملکر کام کر رہے ہیں وہ چند فیصد لوگوں کی کھل کر مذمت کریں اور محبت کے پیغام کو اس شدت کے ساتھ عام کریں کہ نفرت کی آواز کہیں سنائی نہ دے بلکہ ہر جگہ صرف اور صرف محبت کی ہی بات ہو۔
    سدبھاؤنا سنسد میں سکھ سماج کے نمائندہ گرو چرن سنگھ ارورا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہندستان مختلف تہذیبوں کا خوبصورت گلدستہ ہے ۔اس میں سب رنگوں کو کچل کر کے صرف ایک رنگ کی ہی بات کی جائے یا دوسرے رنگوں کو کھلنے اور مہکنے نہ دیا جائے تو اس سے ملک کی خوبصورتی داغدار ہوگی ۔ جمعیت علما نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اور ہم چاہیں گے کہ محبت کے کارواں کو رواں دواں رکھا جائے ۔

    برہما کماری مشن سے تشریف لائے اس کے نمائندہ ڈاکٹر دلیپ نلگے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب میں اسی ایک خدا کا نور ہے ۔سب اسی کے بندے ہیں ،لوگ اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے روشنی میں اسے الگ الگ نام ضرور دیتے ہیں ۔ جب سب کا خالق و رازق ایک ہے تو پھر ہم یہ تفریق کیوں ہے ۔ انسانوں کے بیچ سے تفریق کو ختم کرکے انسانیت کی تقدس کے لئے کام کرنا وقت کی بڑی ضرورت ہے ۔جس طرح سے سدبھاؤنا سنسد میں سب نے انسانوں کے تحفظ کو لیکر اپنی اپنی فکر پیش کی ہے وہ بہت اہم ہے ،جس دن انسان اپنے مذہبی سروکار سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کے لئے کام کرے گا اس دن انسانیت بھی سرخرو ہوگی اور دنیا سے نفرت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: