ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بابائے قوم مہاتما گاندھی سے وابستہ یہ یادگار رانچی میں آج بھی ہے محفوظ

وقت کے ساتھ ساتھ پرانی ہوتی جارہی اس فورڈ کار کے کل پرزے کو بیرون ملکوں سے منگا کر کسی طرح چالو حالت میں رکھا گیا ہے ۔ 1927 ماڈل اس فورڈ کار کو آدتیہ وکرم جیسوال کے پردادا رائے صاحب لکشمی نارائن نے 1927 میں امپورٹ کیا تھا ۔

  • Share this:
بابائے قوم مہاتما گاندھی سے وابستہ یہ یادگار رانچی میں آج بھی ہے محفوظ
بابائے قوم مہاتما گاندھی سے وابستہ یہ یادگار رانچی میں آج بھی ہے محفوظ

بابائے قوم آنجہانی موہن داس کرم چند گاندھی کو جھارکھنڈ سے کافی لگاو تھا ۔ انگریز حکومت کے خلاف تحریک کو مزید تیز کرنے کے مقصد سے مہاتما گاندھی رانچی ، رامگڑھ۔ ، دیوگھر و دیگر مقامات کا دورہ کر تحریک کاروں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کیا کرتے تھے ۔ سال 1940 کا رامگڑھ کنوینشن آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے ، جب بابائے قوم مہاتما گاندھی نے رامگڑھ کا سفر کیا تھا ۔ مہاتما گاندھی رانچی سے رامگڑھ جس فورڈ کار سے گئے تھے ، وہ کار آج بھی محفوظ ہے ۔ 1940 میں کانگریس کنوینشن میں حصہ لینے کے لئے رانچی آئے مہاتما گاندھی نے کئی مقامات کا دورہ کیا تھا ۔ سال 1920 میں بنی جس کار میں گاندھی جی نے رامگڑھ کا سفر کیا تھا ، وہ فورڈ کار آج بھی رانچی کے جیسوال خاندان کے پاس محفوظ ہے ۔ مجاہد آزادی رام نارائن جیسوال اور رائے صاحب لکشمی نارائن جیسوال نے اس کار کو ڈرائیو کیا تھا ۔


جیسوال خاندان اس کار کو آج بھی ورثہ مانتے ہوئے گاندھی جی کی یاد میں محفوظ رکھا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پرانی ہوتی جارہی اس فورڈ کار کے کل پرزے کو بیرون ملکوں سے منگا کر کسی طرح چالو حالت میں رکھا گیا ہے ۔ 1927 ماڈل اس فورڈ کار کو آدتیہ وکرم جیسوال کے پردادا رائے صاحب لکشمی نارائن نے 1927 میں امپورٹ کیا تھا ۔ فور سیٹر اس کنورٹیبل کار میں چار سیلنڈر انجن ہے ۔ یہ آج بھی جدید کار سے کم نہیں ہے ۔ 1927 میں رائے صاحب لکشمی نارائن جیسوال پہلے نن برٹش تھے ، جنہوں نے فورڈ کی یہ ماڈل خریدی تھی ۔


مہاتما گاندھی رانچی سے رامگڑھ اس فورڈ کار سے گئے تھے ۔ یہ کار آج بھی محفوظ ہے ۔
مہاتما گاندھی رانچی سے رامگڑھ اس فورڈ کار سے گئے تھے ۔ یہ کار آج بھی محفوظ ہے ۔


مہاتما گاندھی نے انگریزی حکومت کے خلاف تحریک کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے رانچی ، رامگڑھ ، جمشیدپور ، دیوگھر و دیگر شہروں کا دورہ کیا تھا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ گاندھی جی سال 1917 ، 1925 ، 1927 اور 1940 میں رانچی آئے تھے ۔ تاریخ داں ایچ ایس پانڈے کی مانیں تو مہاتما گاندھی نے انگریزوں کے خلاف کئی لائحہ عمل رانچی میں ہی تیار کیا ۔ چمپارن تحریک زور پکڑنے پر گاندھی جی نے 1917 میں رانچی کے آڈرے ہاوس میں اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر گیٹ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔

پوری دنیا کو عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کا پیغام دینے والے بابائے قوم آنجہانی موہن داس کرم چند گاندھی غیرمعمولی شخصیت کے مالک تھے ۔ اس بات کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے ۔ ایسے میں گاندھی جی سے جڑا ہر وہ لمحہ یادگار کے طور پر بن چکا ہے ، جسے جیسوال خاندان کے ساتھ ساتھ جھارکھنڈ کے باشندہ نے محفوظ رکھا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 15, 2020 05:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading