உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لو میرج کا خوفناک دی اینڈ ، گھر جمائی نے کیا بیوی کا قتل

    اندور : اندور میں ایک لو میرج کا خوفناک دی اینڈ ہوا ہے۔ شادی کے دو سال بعد گھر جمائی بن کر رہ رہے ایک شخص نے اپنی بیوی کا قتل کر دیا۔

    اندور : اندور میں ایک لو میرج کا خوفناک دی اینڈ ہوا ہے۔ شادی کے دو سال بعد گھر جمائی بن کر رہ رہے ایک شخص نے اپنی بیوی کا قتل کر دیا۔

    اندور : اندور میں ایک لو میرج کا خوفناک دی اینڈ ہوا ہے۔ شادی کے دو سال بعد گھر جمائی بن کر رہ رہے ایک شخص نے اپنی بیوی کا قتل کر دیا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      اندور : اندور میں ایک لو میرج کا خوفناک دی اینڈ ہوا ہے۔ شادی کے دو سال بعد گھر جمائی بن کر رہ رہے ایک شخص نے اپنی بیوی کا قتل کر دیا۔ پولیس نے کیس درج کرکے ملزم شوہر کو گرفتار کر لیاہے ۔


      ایس پی (ویسٹ )ڈی کلیانچکرورتی نے بتایا کہ شوہر پنکج نے ہی منصوبہ بند سازش کے تحت روینا کو قتل کر دیا اور پولیس کو گمراہ کرنے کے لئے قاتل شوہر نے خود کو بھی چاقو مار کر زخمی کر لیا تھا۔


      روینا کے اہل خانہ اور پولیس کا شک شروع سے ہی پنکج پر تھا۔ واقعہ کے بعد سے ہی پنکج سے سخت پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔ چھ گھنٹے میں پنکج ٹوٹ گیا اور اس نے اعتراف جرم کر لیا۔


      قابل ذکر ہے کہ پنکج اور روینا نے دو سال پہلے ہی لو میرج کی تھی۔ روینا کا 10 ماہ کا ایک معصوم بچہ بھی ہے۔ پنکج گزشتہ سات ماہ سے گنگا نگر میں واقع اپنے سسرال میں رہ رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ بیوی کے کردار پر شک کرتے ہوئے پنکج نے اس قتل کو انجام دیا۔


      پنکج نے میڈیا کو دیئے بیان میں کہا کہ پانچ دن پہلے اس نے بیوی کے موبائل میں آئی لو یو کا میسج دیکھا تھا۔ اسی بات پر دونوں کے درمیان تنازع بھی ہوگیا۔ پنکج کا الزام ہے کہ اس کی بیوی کے محلے میں کچھ لوگوں سے تعلقاتتھے اور اسی بات سے خفا ہو کر اس نے بیوی کے قتل کی سازش رچی اور اس کو لوٹ کی شکل دیدی ۔


      پنکج نے صبح تقریبا 3.30 سے ​​4.30 کے درمیان نیند میں ہی روینا کا گلا دبا دیا اور بیہوش ہوجانے پر چاقو سے گلا کاٹ کر اس کا قتل کر دیا۔ قتل کو لوٹ کی شکل دینے کے لئے اس نے گھر کا سارا سامان بکھیر دیا اور پھر خود کو چاقو سے وار کر کے زخمی کر لیا تھا۔


      پولیس کے مطابق حملے اور چوٹ کو لے کر پنکج کے بیانات کافی متضاد تھے۔ اس وجہ سے اعلی افسروں نے سختی سے پوچھ گچھ کی، تو پنکج ٹوٹ گیا اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا۔

      First published: