ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد، ممتاز ادیب عشرت قادری کی حیات وخدمات پر محققین نے مقالے پیش کئے

شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ ادبی تقریب میں ممتاز ادیب عشرت قادری کی حیات وخدمات پر محققین نے مقالے پیش کئے اور اردو تحقیق کے میدان میں نئی نسل کے نمایاں محقق ڈاکٹر نعیم انصاری کو عشرت قادری ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔ عشرت قادری کا شمار مالوہ کے ممتاز اردو شاعر وصحافی میں ہوتا ہے۔

  • Share this:
شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد، ممتاز ادیب عشرت قادری کی حیات وخدمات پر محققین نے مقالے پیش کئے
شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ ادبی تقریب میں ممتاز ادیب عشرت قادری کی حیات وخدمات پر محققین نے مقالے پیش کئے اور اردو تحقیق کے میدان میں نئی نسل کے نمایاں محقق ڈاکٹر نعیم انصاری کو عشرت قادری ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔ عشرت قادری کا شمار مالوہ کے ممتاز اردو شاعر وصحافی میں ہوتا ہے۔

شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں ادبی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ ادبی تقریب میں ممتاز ادیب عشرت قادری کی حیات وخدمات پر محققین نے مقالے پیش کئے اور اردو تحقیق کے میدان میں نئی نسل کے نمایاں محقق ڈاکٹر نعیم انصاری کو عشرت قادری ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔ عشرت قادری کا شمار مالوہ کے ممتاز اردو شاعر وصحافی میں ہوتا ہے۔ عشرت قادری شفاگوالیاری کے شاگرداور مالوہ میں سلسلہ داغ ؔکے اہم جانشین تھے۔ عشرت قادری کی ولادت سولہ فروری انیس سو چھبیس کو ریاست بھوپال کے تاریخی شہر سیہور میں ہوئی تھی۔اور انتقال  شہر غزل بھوپال  میں سترہ مئی دوہزار گیارہ کو ہوا تھا۔ عشرت قادری کی برسی کے موقعہ پر ہرسال سترہ مئی کو بھوپال میں ادبی  تقریب کے ساتھ ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیاجاتا ہے لیکن اس بار کورونا قہر کے سبب پروگرام کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا اب جبکہ بھوپال میں کورونا کے معاملے میں کمی آئی ہے اور حالات کچھ سازگار ہوئے ہیں تو سو سائٹی کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد کیاگیا ہے۔ تقریب میں بھوپال کے ممتاز ادیبوں نے شرکت کی اور عشرت قادری کی حیات وخدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔


اس پروگرام کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں ایوارڈ اردو کی کسی بزرگ شخصیت کو نہ دیکر بلکہ تحقیق کے میدان میں نمایاں کام کرنے والے نئی نسل کے فنکارکو دیا جاتا ہے۔ دوہزار اٹھارہ کا ایوارڈ ڈاکٹر ضبیحہ کو دیا گیا جبکہ دوہزار انیس کا ایوارڈ ڈاکٹر نعیم انصاری کو دیا گیا۔ ڈاکٹر صبیحہ نے اپنا تحقیقی مقالہ عشرت قادری فن وشخصیت پر ہی لکھا تھا جبکہ ڈاکٹرنعیم انصاری کا تحقیقی کام بھوپال میں اردو افسانہ نگاری پر ہے۔ شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے صدر رضا درانی کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد ہے کہ نئی نسل میں اردو کو عام کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نئی نسل کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے تحقیق کے میدان میں نمایاں کام کرنے والے نئی نسل کے فنکار کو ہی چنتے ہیں ۔عشرت قادری کی زندگی کا مشن یہی تھا کہ اردو کی نسل میں آبیاری کی جائے ۔



وہیں بھوپال کے نمائندہ شاعر اور شہر غزل کلچرل سو سائٹی کے سکریٹری بدر واسطی کہتے ہیں کہ اردو کے اہم لکھنے والوں کو بہت سے لوگ ایوارڈ سے سرفراز کرتے ہیں مگر نئی نسل کی جانب کوئی نہیں دیکھتا ہے۔ جب نئی نسل کی حوصلہ افزائی ہوگی تو یہ اردو کے میدان میں اور محنت سے کام کریگی۔ہم نے دوہزار اٹھارہ کا ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ اختر کو اور دوہزار انیس کا ایوارڈ ڈاکٹر نعیم انصاری کو دیا ہے۔ ایوارڈکے ساتھ شال اور توصیفی سند تو سبھی دے رہے ہیں مگر ہم نئی نسل کے نمائندہ فنکاروں کو ایوارڈ میں رقم بھی دیتے ہیں ۔اس سے نئی نسل کے لکھنے والوں میں ایک مقابلہ پیدا ہورہا ہے کہ اور وہ بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

عشرت قادری اردو حاصل کرنے والے ڈاکٹر نعیم انصاری کہتے ہیں کہ مجھے خوشی ہے کہ بھوپال میں اردو افسانہ نگاری کے عنوان پر میری تحقیق کو پسند کیاگیاہے۔ ایوارڈ ملنے سے مجھے بہت خوشی ہورہی ہے مگر اسی کے ساتھ میرے لئے چیلنج بھی بڑھ گیا ہے اب میرے قاری کی توقعات میری تحقیق کو لیکر اور بڑھ گئی ہے ۔ میری کوشش ہوگی کہ میں تحقیق کے میدان میں نئے جہانوں کو تلاش کروں اور میرے قاری جب مجھے پڑھیں تو انہیں مایوسی نہ ہو۔ عشرت قادری نے مرکزادب کے ذریعہ بھوپال میں جن لوگوں کی تربیت کی تھی آج شاعری کے میدان میں بھوپال میں انہیں کا بول بالا ہے ۔ عشرت قادری کے شعری مجموعوں میں سحر نما اور آسماں سائباں کے نام قابل ذکر ہیں ۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے اپنے با وقار ایوارڈ سے بھی عشرت کا قادری کو سرفراز کیاتھا۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 14, 2020 10:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading