ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

نئی نسل کی ذہن سازی کے بغیر ادب کی تعمیر و تشکیل نہیں ممکن

بھوپال میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کرنے والی انجمنوں ،صحافیوں اور دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد کیاگیا تاکہ کورونا کی وبا کا خاتمہ ہوتے ہی منصوبہ بند طریقے سے زبان و ادب کے فروغ کی ریاستی سطح پر تحریک برپا کی جاسکے۔

  • Share this:
نئی نسل کی ذہن سازی کے بغیر ادب کی تعمیر و تشکیل نہیں ممکن
بھوپال میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کرنے والی انجمنوں ،صحافیوں اور دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد کیاگیا تاکہ کورونا کی وبا کا خاتمہ ہوتے ہی منصوبہ بند طریقے سے زبان و ادب کے فروغ کی ریاستی سطح پر تحریک برپا کی جاسکے۔

قوم و ملت ،حکومت و سیاست،فرد و جماعت کی تاریخ،زبا ن کا فروغ و ارتقاء، مستحکم تہذیب و تمدن کی شیرازہ بندی اصلاح نسل میں مشعل راہ ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں فرد و جماعت ،تہذیب و ثقافت ،زبان اور ملک وملت کے کارناموں کا عکس دیکھا جاتا ہے۔ ان کی ترقی و تنزلی کے اسباب پر غور و فکر کرنا اور ان کی روشنی میں آئندہ کے لئے منصوبہ بند طریقے لائحہ عمل تیار کرنا بیدار قوموں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لاک ڈاؤن اور کورونا قہر میں جہاں دوسرے میدان میں نقصانا ت ہوئے ہیں وہیں اردو کی تحریک بھی معدوم ہوگئی ہے۔ بھوپال میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کرنے والی انجمنوں ،صحافیوں اور دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد کیاگیا تاکہ کورونا کی وبا کا خاتمہ ہوتے ہی منصوبہ بند طریقے سے زبان و ادب کے فروغ کی ریاستی سطح پر تحریک برپا کی جاسکے۔

مدھیہ پردیش مسلم ایجوکیشن سو سائٹی کے سکریٹری و ممتاز ادیب اقبال مسعود کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ متحدہ ہندستان میں اردو زبان کو سب سے پہلے سرکاری زبان کا درجہ دینے کا کام بھوپال میں کیاگیا تھا اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ اب بھوپال میں اردو زبان کے اسکول دم توڑتے جا رہے ہیں ۔ میٹنگ کا انعقاد اسی لئے کیاگیا ہے کہ نہ صرف بھوپال میں بلکہ ریاستی سطح پر اردو اسکولوں کو کھولنے کے لئے عملی کام کیا جائے ۔ جہاں اسکول ہیں وہاں پر معیار قائم کیا جائے اور جہاں اسکول نہیں ہے وہاں پر حکومت سے اردو اسکول قائم کرنے اور اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا جائے ۔

ممتاز ادیب پروفیسر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ سہ لسانی فارمولے کے تحت اردو کے لئے بہت مواقع ہیں مگر اردو انمجنوں کی عدم توجہی کہیئے یا معلومات کی کمی کہ اس کو لیکر کوئی تحریک ہی نہیں چلائی جا رہی ہے ۔ دوہزارچودہ میں مرکزی حکومت نے دوسرے علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو زبان کے اساتذہ کی تقرری کو لیکر بھی سرکولر جاری کیا تھا مگر ابتک اس پر عمل نہیں ہو سکا ۔ میٹنگ کا مقصد یہی ہے کہ پہلے ہم خود بیدار ہوں پھر دوسروں کو بیدار کر یں تاکہ زبان کی آبیاری بھی ہو اور نئی نسل تک اردو کا بیش قیمتی سرمایہ منتقل بھی کیا جاسکے ۔ اگر آج ہم نے بیداری کا ثبوت نہیں دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی۔

معروف صحافی محمود ملک کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں بند کمروں میں تو باتیں بہت کی جاتی ہیں مگر میدان میں آنے کا کام کبھی کبھی ہوتا ہے ۔ میٹنگ میں یہ طے کیاگیا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے روشناس کرایا جائے اور ہر ضلع میں اردو کی آبیاری کے لئے تحریک پربا کی جائے ۔اس کے تحت پروگرام کا انعقاد ،بچوں میں تقریری اور تحریک مقابلہ کا انعقاد ،بیت بازی اور دوسرے پروگرام کے انعقاد کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

میٹنگ میں اردو اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری کے مطالبہ کو لیکر جلد ہی وزیر تعلیم سے ملاقات کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے قیام کے وقت ریاست میں اردو میڈیم کے پانچ سو اٹھہتر اسکول تھے مگر حکومتوں کی عدم توجہی اور اپنوں کی بے حسی کے سبب اب ریاست میں اردو اسکولوں کی تعداد گھٹ کر ایک سو اٹھائیس تک پہنچ گئی ہے ۔ اگر اب بھی اس کی جانب سنجیدہ کی کوشش نہیں کی گئی تو آئیندہ سالوں میں اردو اسکولوں میں تعداد میں اور کمی آسکتی ہے ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 13, 2021 04:01 PM IST