உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لو جہاد قانون پر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، دو بالغ کر سکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

    جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم دیتے ہوئے مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ حکومت کو تین ہفتوں میں جواب دینا ہوگا۔

    جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم دیتے ہوئے مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ حکومت کو تین ہفتوں میں جواب دینا ہوگا۔

    جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم دیتے ہوئے مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ حکومت کو تین ہفتوں میں جواب دینا ہوگا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jabalpur, India
    • Share this:
      جبل پور ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر دو بالغ شہری اپنی مرضی سے کسی مختلف ذات یا مذہب میں شادی کر رہے ہیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم دیتے ہوئے مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ حکومت کو تین ہفتوں میں جواب دینا ہوگا۔

      حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی
      جبل پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو آزادی مذہب ایکٹ کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔ جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم دیتے ہوئے مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کی دفعہ 10 کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت دوسرے مذہب میں شادی کرنے والوں کے لیے شادی سے 60 دن قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یعنی کلکٹر کو معلومات دینا لازمی قرار دیا گیا تھا اور ایسا نہ کرنے پر 2 سال قید کی سزا کا انتظام کیا گیا تھا۔




      مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ کو چیلنج
      مدھیہ پردیش فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2021 کے سیکشن 10 کے خلاف جبل پور ہائی کورٹ میں 6 درخواستیں دائر کرکے اس قانون کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواستوں میں کہا گیا کہ اس قانون کا سیکشن 10 آئین میں دیے گئے مذہبی آزادی کے حق کے خلاف ہے جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو صوابدیدی اختیارات دیتا ہے۔ سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بالغ اپنی مرضی سے کسی دوسری ذات یا مذہب میں شادی کرتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: