ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ہائی کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا، انتخابی عرضی پر ہو گی سماعت

مدھیہ پردیش کے ہائی کورٹ نے بھوپال کی رکن پارلیمان پرگیا ٹھاکر کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں ان کے خلاف دائر انتخابی عرضی کو ناقابل سماعت بتایا گیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 14, 2019 12:02 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ہائی کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا، انتخابی عرضی پر ہو گی سماعت
بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر

جبل پور۔ مدھیہ پردیش کے ہائی کورٹ نے بھوپال کی رکن پارلیمان پرگیا ٹھاکر کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں ان کے خلاف دائر انتخابی عرضی کو ناقابل سماعت بتایا گیا تھا۔ جج وشال گھٹک کی سنگل بینچ نے پرگیا ٹھاکر کی اس عرضی کو مسترد کر دیا ہے جس میں ان کے خلاف دائر انتخابی عرضی کو ناقابل سماعت بتایا تھا۔  پرگیہ ٹھاکر کے الیکشن کو چیلنج کرنے والی انتخابی عرضی پر عدالت آسانی سے سماعت كرے گی۔

بھوپال کے رہنے والے راکیش دیکشت کی جانب سے دائر کی گئی انتخابی عرضی میں کہا گیا تھا کہ سادھوی پرگیا نے انتخابات کے دوران فرقہ وارانہ تقریر یں کی ہیں۔  اس کے علاوہ انہوں  نے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مذہبی جذبات کو بھڑکانے سے متعلق باتوں کا ذکر بھی اپنی تقریر میں کیا۔عرضی میں عائد کئے گئے الزامات کی تصدیق کے لئے سادھوی کی تقریر کی سی ڈی اور اخبارات میں شائع خبروں کے تراشے بھی پیش کئے گئے تھے۔

عرضی میں کہا گیا کہ یہ عمل عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 123 کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے ان کے الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ عرضی کی سماعت کے دوران رکن پارلیمنٹ پرگیا ٹھاکر کی جانب سے دائر عرضی کو مسترد کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواست پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شواہد کے تحت الیکٹرانک ثبوت ریکارڈ کرنے اور کمپیوٹر سے اس کی سی ڈی بنانے والے کا حلف نامہ پیش کیا جانا ضروری ہے ۔ عرضی کے ساتھ مقررہ اصولوں کے ساتھ حلف نامہ پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے مذکورہ عرضی مسترد کرنے کے قابل ہے۔

First published: Dec 14, 2019 12:01 AM IST