உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عاشق کو گھر بلاکر یہ کام کررہی تھی نابالغ پوتی ، دادی نے دیکھ لیا تو اٹھایا یہ خوفناک قدم

    عاشق کو گھر بلاکر یہ کام کررہی تھی نابالغ پوتی ، دادی نے دیکھ لیا تو اٹھایا یہ خوفناک قدم

    عاشق کو گھر بلاکر یہ کام کررہی تھی نابالغ پوتی ، دادی نے دیکھ لیا تو اٹھایا یہ خوفناک قدم

    Deoghar News: جھارکھنڈ کے دیوگھر میں نابالغ پوتی نے اس لئے دادی کا قتل کردیا ، کیونکہ دادی نے پوتی کو اس کے عاشق کے ساتھ دیکھ لیا تھا ۔

    • Share this:
      دیوگھر : جھارکھنڈ کے دیوگھر میں نابالغ پوتی نے اس لئے دادی کا قتل کردیا ، کیونکہ دادی نے پوتی کو اس کے عاشق کے ساتھ دیکھ لیا تھا ۔ یہ واقعہ پوکھناتیلا محلہ میں پیش آیا ۔ دراصل گھر کے دیگر اہل خانہ چھٹ میں باہر گئے تھے ۔ اسی دوران سن رسیدہ خاتون کا قتل کردیا گیا ۔ گھر لوٹنے پر اہل خانہ کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر سن رسیدہ خاتون کے ساتھ کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے ۔ پولیس نے لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کرا کر اہل خانہ کو سونپ دیا ۔ یہ واقعہ 16 نومبر کا ہے ۔

      واقعہ کے وقت گھر میں دادی کے ساتھ نابالغ پوتی موجود تھی ۔ پوتی کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان آیا اور دادی کا قتل کرکے فرار ہوگیا ، لیکن پولیس کے گلے یہ کہانی اتری نہیں ۔ پولیس کیلئے شک کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ دادی کے پینشن سے پورا کنبہ چلتا تھا ۔

      پولیس معاملہ کی گہرائی سے چھان بین کی تو جو جانکاری سامنے آئی اور وہ انتہائی چونکانے والی تھی ۔ دراصل قاتل کوئی اور نہیں بلکہ گھر میں دادی کے ساتھ موجود نابالغ پوتی اور اس کا عاشق نکلا ۔

      صدر دفتر ڈی ایس پی منگل سنگھ جامودا نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو شروع سے ہی گھر کے لوگوں پر شک تھا ۔ چھان بین میں شک سچ ثابت ہوا ۔ نابالغ پوتی نے اپنے عاشق کے ساتھ دادی کا قتل کردیا ۔ واقعہ معاشقہ سے وابستہ ہے ۔

      ڈی ایس پی نے بتایا کہ نابالغ پوتی اور اس کا عاشق پنکو کمار یادو کو دادی نے ایک ساتھ دیکھ لیا تھا ۔ گھروالوں کے پاس اس کا راز نہ کھل جائے ، اس لئے پوتی نے عاشق کے ساتھ مل کر دادی کا قتل کردیا ۔

      ڈی ایس پی کے مطابق پولیس کو گمراہ کرنے کیلئے پوتی نے جھوٹی کہانی بنائی اور بتایا کہ نامعلوم نوجوان نے گھر میں گھس کر دادی کا قتل کردیا ۔ پولیس نے ملزم عاشق اور نابالغ پوتی کو حراست میں لے لیا ۔ ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: