ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدارس ملحقہ کے تئیں محکمہ تعلیم کا امتیازی رویہ، وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کا ڈائریکٹر کے رویہ پر برہمی کا اظہار

حامد غازی نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ریاست جھارکھنڈ کے 114ملحقہ مدارس کے اساتذہ وملازمین کی بقایہ تنخواہیں جاری کرنے کی کابینہ کی منظوری کے تین ماہ گذر گئے لیکن اب تک تنخواہیں جاری نہیں ہوئیں جس پر وزیر اعلیٰ نےحیرت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے تئیں شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں افسرشاہی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔ جن کا جو بھی حق ہے وہ انہیں ملے گا۔

  • Share this:
مدارس ملحقہ کے تئیں محکمہ تعلیم کا امتیازی رویہ، وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کا ڈائریکٹر کے رویہ پر برہمی کا اظہار
مدارس ملحقہ کے تئیں محکمہ تعلیم کا امتیازی رویہ، وزیر اعلیٰ کا ڈائریکٹر پر برہمی کا اظہار

رانچی۔ گذشتہ 42ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم جھارکھنڈ کے 186ملحقہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین اب جھارکھنڈ کے افسروں کی افسرشاہی سے پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے مدرسوں کے اساتذہ وملازمین کی بقایہ تنخواہیں جاری کرنے سے متعلق ریاستی کابینہ کے فیصلے کے باوجود اب تک ان اساتذہ وملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں ہو سکی ہیں۔ مدرسوں کے اساتذہ و ملازمین کی بقایہ تنخواہیں جاری کرنے کی منظوری تقریباً تین ماہ قبل ہی ریاست کے ہیمنت سورین کی کابینہ نے دے دی ہے۔ لیکن محکمہ تعلیم کی بے توجہی اور مدرسوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کے سبب کابینہ کی منظوری کے تین ماہ گذر جانے کے بعد بھی اب تک ان اساتذہ وملازمین کی بقایہ تنخواہیں جاری نہیں ہو سکی ہیں۔


محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے متعصبانہ رویہ سے ناراض آل جھارکھنڈ مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس کی شکایت وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے کی۔جمعرات کو ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری حامد غازی کی قیادت میں ایک وفد نے دمکا میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کی اور مدرسوں کے مسائل سے انہیں روشناس کرایا اور مدرسوں کے تئیں محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے رویہ سے بھی انہیں واقف کرایا۔


حامد غازی نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ریاست جھارکھنڈ کے 114ملحقہ مدارس کے اساتذہ وملازمین کی بقایہ تنخواہیں جاری کرنے کی کابینہ کی منظوری کے تین ماہ گذر گئے لیکن اب تک تنخواہیں جاری نہیں ہوئیں جس پر وزیر اعلیٰ نےحیرت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے تئیں شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں افسرشاہی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔ جن کا جو بھی حق ہے وہ انہیں ملے گا۔وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بقایہ تنخواہیں جلد جاری ہونگی ساتھ ہی مدارس کے دیگر مسائل کا حل بھی جلد از جلد کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وفد میں آل جھارکھنڈ مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری حامد غازی کے علاوہ جمعیۃ العلما گڈا کے صدر مولانا نعمان، جمعیت اہل حدیث گڈا کے نائب صدر مولانا معین الحق اور ادارہ شرعیہ دمکا کے ذمہ داران شامل تھے۔


واضح رہے کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے دور اقتدار میں مادی جانچ کے نام پر ریاست کے ١٨٦ منظور شدہ مدرسوں کے ملازمین کی تنخواہ ادائیگی پر روک لگائی گئی تھی۔ ایک لمبے عرصے تک چلے جانچ کے عمل کے بعد چند درجن مدرسوں کے ملازمین کو تنخواہ ادائیگی شروع کی گئی لیکن ایک سو سے زائد مدرسوں کے ملازمین ابھی بھی تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ تنخواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مدرسہ ملازمین مالی بحران کے شکار ہیں۔ ان میں سے کئی بیمار ہونے والے ملازمین بہتر علاج نہ کرا پانے کی وجہ سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ تاہم وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی یقین دہانی سے ان مدرسہ ملازمین میں خوشی دیکھی جا رہی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 30, 2020 05:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading