ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ میں اردو زبان زبوں حالی کا شکار، اردو اساتذہ اور طلباء مختلف مسائل سے دوچار

ریاست کے اردو اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو اسکولوں میں معقول تعداد میں نہ تو اردو اساتذہ ہیں اور نہ ہی انگریزی کو چھوڑ کر اردو مضمون کے علاوہ دیگر مضامین کی کتابیں اردو زبان میں دستیاب ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو کے طلباء ہندی زبان کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں اردو زبان زبوں حالی کا شکار، اردو اساتذہ اور طلباء مختلف مسائل سے دوچار
جھارکھنڈ میں اردو زبان زبوں حالی کا شکار، اردو اساتذہ اور طلباء مختلف مسائل سے دوچار

رانچی۔ جھارکھنڈ میں اردو زبان زوال پذیر ہے ۔ ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی اردو زبان و ادب کی ترقی کے تئیں کبھی بھی کوئی حکومت سنجیدہ نہیں رہی ہے ۔ ریاست کی تشکیل کو تقریباً 20 سال کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن اب تک جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کا قیام عمل میں نہیں آیا ہے ۔ ریاست کے اردو اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو اسکولوں میں معقول تعداد میں نہ تو اردو اساتذہ ہیں اور نہ ہی انگریزی کو چھوڑ کر اردو مضمون کے علاوہ دیگر مضامین کی کتابیں اردو زبان میں دستیاب ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو کے طلباء ہندی زبان کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کئی اردو اسکولوں میں اردو کے استاد ہی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں کئی اردو اسکولوں کا ہندی اسکولوں میں انضمام ہو گیا ہے۔


ماہرین کے مطابق ریاست کی تشکیل کے تقریباً آٹھ سال بعد بہار کے زمانے کے منظور شدہ چار ہزار چار سو ایک اردو پرائمری اساتذہ کی بحالی کا عمل شروع بھی ہوا تو کئی اڑچنیں پیدا ہو گئیں ۔ محکمہ تعلیم نے ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کو فائل بھیجے لیکن کمیشن سے محکمہ تعلیم کو دو بار فائل واپس کئے گئے ۔ خدا خدا کرکے امتحان کا انعقاد کیا گیا لیکن اردو ٹیچر کی تقرری میں علاقائی زبانوں کے مضمون میں لازمی طور پر کامیاب ہونے کی شرط کی وجہ سے چند درجن ہی امیدوار کامیاب ہو سکے۔ تاہم اس معاملے کو لیکر محبان اردو نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت نے جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ امتحان کے انعقاد کا فیصلہ لیا لیکن پھر بھی منظور شدہ ٤٤٠١ اردو پرائمری اساتذہ کی تقرری نہیں ہو سکی ۔ ماہرین کے مطابق محض آٹھ سو اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی۔ بقیہ اسامیوں کو پر کرنے کے لئے اب تک کوئی پہل نہیں کی گئی۔


جھارکھنڈ اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے اردو زبان، اردو اسکول اور اردو اساتذہ کے تئیں غیرسنجیدہ رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایسو سی ایشن نے میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا ہے کہ جلد ہی ایک وفد وزیر تعلیم جگرناتھ مہتو سے ملاقات کرے گا اور اردو کے مسائل سے وزیر موصوف کو روشناس کرائے گا اور ایک عرضداشت بھی پیش کرے گا۔


ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سال 2008 میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے تعلق سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اب تک اس کا عملی نفاذ نہیں ہوا ہے۔ اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی کی وجہ سے شعراء، ادباء اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہو پا رہی ہے جس کے سبب ان کی تخلیقات بھی منظر عام پر نہیں آ پا رہی ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 02, 2020 08:13 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading