ہوم » نیوز » No Category

مسلمانوں کے مسائل سے روبرو ہوئے وزیراعلی رگھوورداس، مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی

وزیر اعلی رگھوورداس نے مسلمانوں کے مسائل سے روبرو ہونے کے لئے ایک میٹنگ بلائی۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے مسلمانوں کی ترقی کے تعلق سے کئی اعلانات کئے۔

  • ETV
  • Last Updated: Aug 23, 2016 11:17 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلمانوں کے مسائل سے روبرو ہوئے وزیراعلی رگھوورداس، مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی
وزیر اعلی رگھوورداس نے مسلمانوں کے مسائل سے روبرو ہونے کے لئے ایک میٹنگ بلائی۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے مسلمانوں کی ترقی کے تعلق سے کئی اعلانات کئے۔

رانچی۔ ریاست جھارکھنڈ کی اقلیت اس کو لیکر کافی برہم تھی کہ موجودہ وزیر اعلی نے اقتدار میں آنے کے اتنی مدت گزر جانے کے بعد بھی ان کی نہ کوئیخیریت لی ہے اور نہ ان کی ترقی کے تعلق سے کوئی اعلان ہی کیا ہے۔ لیکن اب کہیں جا کر وزیر اعلی نے اقلیتی نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کر ان کے مسائل کی جانکاری لی اور حل کرنے کی امید بھی جگائی۔


جھارکھنڈ حکومت نے ریاست کی مسلم اقلیت کے مسائل کے تئیں سنجیدہ رویہ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی رگھوورداس نے مسلمانوں کے مسائل سے روبرو ہونے کے لئے ایک  میٹنگ بلائی۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے مسلمانوں کی ترقی کے تعلق سے کئی اعلانات کئے۔ وزیر اعلی کے ان اعلانات سے مسلمانوں میں متضاد تاثرات پائے جا رہے ہیں۔


ریاست میں پہلی بار پائیدار حکومت کے قیام کے تقریباً 20 ماہ بعد مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے ایک نایاب پہل کی گئی۔ ریاست کی مسلم اقلیت کے مسائل سے واقفیت حاصل کرنے اور اس کے حل کے مقصد سے ریاستی حکومت کے ذریعہ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں پوری ریاست سے چنندہ مسلم دانشوران،علمائے کرام اور سماجی کارکنان کو مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی رگھوور داس ان کے مسائل سے روبرو ہوئے اور انکی ترقی کے لئے کئی اعلانات کئے۔


وزیر اعلی نے اس موقع پر 70 کروڑ کی لاگت سے حج ہاوس کی از سر نو تعمیر کے علاوہ اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ جیسے فلاحی اداروں کے جلد قیام کا بھی یقین دلایا۔ تاہم وزیر اعلی کے ان اعلانات سے مسلمانوں میں متضاد تاثرات پائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلی رگھوور داس نے اس موقع پر ریاست کے مسلمانوں کے ابتر حالات کے لئے سابقہ حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم معاشرے کو اپنے خاندان کا حصہ بتایا۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلی اپنے وعدوں کو کس طرح پورا کر پاتے ہیں۔

First published: Aug 23, 2016 11:17 AM IST