ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بے چینی ، مساجد میں نماز ادا نہ کرنے کا ملال ، جمعہ کے دن اردو خطبے سے ہیں محروم

گزشتہ 22 مارچ کو جنتا کرفیو اور اس کے فوراً بعد لاک ڈاؤن کی وجہ کر تمام عبادت گاہوں کے اہم دروازے پر تالا لٹکا ہے ۔ تقریباً چھ ماہ سے مساجد بند رہنے سے مسلمانوں میں بیچینی دیکھی جا رہی ہے ۔

  • Share this:
جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بے چینی ، مساجد میں نماز ادا نہ کرنے کا ملال ، جمعہ کے دن اردو خطبے سے ہیں محروم
جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بے چینی ، مساجد میں نماز ادا نہ کرنے کا ملال ، جمعہ کے دن اردو خطبے سے ہیں محروم

کورونا وبا کی وجہ سے جھارکھنڈ میں مذہبی مقامات میں عبادت پر پابندی عائد ہے ۔ گزشتہ 22 مارچ کو جنتا کرفیو اور اس کے فوراً بعد لاک ڈاؤن کی وجہ کر تمام عبادت گاہوں کے اہم دروازے پر تالا لٹکا ہے ۔ تقریباً چھ ماہ سے مساجد بند رہنے سے مسلمانوں میں بیچینی دیکھی جا رہی ہے ۔ اس بیچینی کو دیکھتے ہوئے رانچی کے اقرأ مسجد کے خطیب عبیداللہ قاسمی اور شہر قاضی قاری جان محمد رضوی نے ایک مہم کی شروعات کی ہے ۔ اس کے ذریعے ائمہ مساجد سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے نام خطوط مانگے گئے ہیں ۔ 20 ستمبر تک جمع شدہ خطوط کو لیکر ایک وفد وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کرے گا اور ان سے مساجد کو سوشل ڈسٹنسنگ کے تحت پنج گانہ نماز اور نماز جمعہ کے لئے کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرے گا ۔


جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو مساجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے کا بیحد ملال ہے ۔ رانچی کے ڈورنڈہ واقع پراسٹولی محلہ کے باشندہ ارشد علی کہتے ہیں کہ کورونا کے خطرے  کے پیش نظر عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز عیدگاہ یا مسجد میں ادا کرنے سے محروم رہے ۔ چونکہ کورونا وبا سے خود کو اور قوم و ملت کو بچانے کے مقصد سے حکومت کے احکامات کی پاسداری کی گئی ۔ وہیں پنج گانہ نماز گھروں میں ادا کرنا بھی کورونا کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہوا ۔ اس کے دوسرے فائدے بھی ہوئے ، مسلمانوں کے ہر گھر میں مسجد کی طرح ماحول دیکھنے کو ملا ۔ چھوٹے بڑے سبھی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے لگے  ۔ لیکن انہیں نماز جمعہ مساجد میں ادا نہ کرنے کا بیحد ملال ہے ۔


جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو مساجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے کا بیحد ملال ہے ۔
جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو مساجد میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے کا بیحد ملال ہے ۔


ارشد علی کہتے ہیں کہ جمعہ کا دن چھوٹی عید کی طرح ہوتا ہے ۔ لوگ صاف اور محبوب لباس زیب تن کرتے ہیں اور خوشبو کا کثرت سے استعمال کرتے ہوئے نماز شروع ہونے سے قبل ہی مسجد جاتے ہیں ۔ تاکہ انہیں اگلی صف میں شامل ہونے کا موقع مل سکے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس عمل سے وہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی نماز جمعہ کے خطبہ سے قبل امام و خطیب کی تقریر سے ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ۔ لیکن مساجد کے بند رہنے سے وہ ثواب سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اردو خطبے کے فائدے سے بھی محروم ہو رہے ہیں ۔ پ

راسٹولی اصلاحیہ کمیٹی کے رکن ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ مساجد کے بند رہنے سے جمعہ کی نماز کے موقع ہونے والے چندے سے موذن اور امام کی تنخواہ کو پورا کئے جانے کے ساتھ ساتھ مسجد کے دیگر اخراجات کے لئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے ضابطے کو اپناتے ہوئے مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ تاکہ ثواب اور دینی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کو دور کرنے میں مدد مل سکے  ۔ واضح رہے ریاستی حکومت کی ایڈوائزری کے مطابق 30 ستمبر تک عبادت گاہیں بند رہیں گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 11, 2020 11:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading