உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'میرا شوہر دو لڑکوں کے ساتھ آیا اور میری اجتماعی آبروریزی کروائی' ، پڑھئے Palamu Gang Rape Case کی پوری کہانی

    'میرا شوہر دو لڑکوں کے ساتھ آیا اور میری اجتماعی آبروریزی کروائی' ، پڑھئے Palamu Gang Rape Case کی پوری کہانی ۔ علامتی تصویر ۔

    'میرا شوہر دو لڑکوں کے ساتھ آیا اور میری اجتماعی آبروریزی کروائی' ، پڑھئے Palamu Gang Rape Case کی پوری کہانی ۔ علامتی تصویر ۔

    Palamu Manatu Gang Rape Case: مناتو تھانہ علاقہ کے رہیا گاؤں کے اجتماعی عصمت دری کیس میں ڈسٹرکٹ کورٹ آف پریکٹس نے سزا سنائی ہے ۔ اجتماعی آبروریزی کا الزام لگانے والی خاتون کے شوہر اور دیگر دو افراد کو 20 ۔ 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    • Share this:
      پلامو: مناتو تھانہ علاقہ کے رہیا گاؤں کے اجتماعی عصمت دری کیس میں ڈسٹرکٹ کورٹ آف پریکٹس نے سزا سنائی ہے ۔ اجتماعی آبروریزی کا الزام لگانے والی خاتون کے شوہر اور دیگر دو افراد کو 20 ۔ 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ چوتھے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کم اسپیشل جج (پاکسو ایکٹ) کے پی این پانڈے نے اپنے فیصلے میں 20 ہزار روپے کے جرمانہ کی سزا بھی دی ہے ۔ جبکہ ایک قصوروار خاتون کو دس سال قید بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے ۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چاروں قصورواروں کو چھ ماہ کی اضافی قید کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔

      دراصل مناتو پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اس کی شادی گاؤں کے ہی ایک بدمعاش نوجوان سے ہوئی تھی ۔ 16 دسمبر 2016 کو خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اس کے شوہر افضل انصاری ، نوشاد انور اور ببلو سنگھ عرف وکرم راجہ نے اس کی اجتماعی آبروریزی کی اور موبائل سے اس کا ویڈیو بنایا تھا ۔ بتادیں کہ ببلو سنگھ ، پانکی کے سابق کانگریس ایم ایل اے دیویندر پرساد سنگھ عرف بٹو سنگھ کا سوتیلا بھائی ہے ۔

      واقعہ کے بارے میں خاتون نے ایف آئی آر میں بتایا تھا کہ 14 دسمبر 2016 کو رات تقریباً آٹھ بجے اس کا شوہر دو لڑکوں کے ساتھ گھر آیا اور اس کو دھمکیاں دے کر اس کی اجتماعی آبروریزی کی ۔ اسمارٹ فون سے اجتماعی آبروریزی کا ویڈیو بھی بنایا گیا ۔ اس گھنونے کام میں اس کا شوہر ملزمین کا ساتھی بنا رہا اور پھر ہتھیار دکھاتے ہوئے دھمکی دی کہ مخالفت کرنے پر اس کو جان سے مار دیا جائے گا ۔

      ایف آئی آر کے مطابق دسمبر کا مہینہ ہونے کی وجہ سے رات سنسان تھی ۔ واقعہ کے بعد تینوں ملزمین فرار ہو گئے ۔ متاثرہ نے بعد میں اپنے والد کو معاملہ کی اطلاع دی، جس کے بعد وہ مناتو پولیس اسٹیشن گئے اور شکایت درج کرائی ۔ بہر حال ملزمین کو پاکسو ایکٹ کے تحت قصوروار پایا گیا اور سزا سنائی گئی ہے ۔ چاروں قصوروار پہلے ہی پلامو سینٹرل جیل میں بند ہیں ۔ تاہم ان کے پاس اب بھی ہائی کورٹ جانے کا متبادل موجود ہے ۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: