உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی کی موجودہ حالات میں مساجد و مدارس کے علما و حفاظ کا خاص خیال رکھنے کی اپیل

    ڈاکٹر عبید اللہ کی موجودہ حالات میں مساجد و مدارس کے علما و حفاظ کا خاص خیال رکھنے کی اپیل

    ڈاکٹر عبید اللہ کی موجودہ حالات میں مساجد و مدارس کے علما و حفاظ کا خاص خیال رکھنے کی اپیل

    ڈاکٹرعبید اللہ قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالاتِ میں سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ مدارس و مکاتب سے جڑے ہوئے علماء کرام و حفاظ کرام و مدرسین اور مسجدوں کے امام و موذن حضرات ہیں ۔

    • Share this:
    رانچی : مرکزی مجلس علما جھارکھنڈ اور رانچی کے اقرأ مسجد کے خطیب ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی نے مسلمانوں سے موجودہ حالات میں مساجد و مدارس کے علماء و حفاظ کا خاص خیال رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا سے پیدا شدہ حالات اور لاک ڈاون کی وجہ سے کاروبار اور معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے ، جس کا سب سے برا اثر مدارس و مساجد اور اس کی خدمت میں لگے ہوئے اساتذہ اور امام و موذن کی زندگی پر پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سارے مسلمان جانتے ہیں کہ مساجد ، مدارس اور مکاتب کے سارے اخراجات خالص عوامی چندے اور انہیں کے مالی تعاون سے پورے کئے جاتے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون تو دھیرے دھیرے کچھ پابندیوں کے ساتھ  کھول دئے گئے ، لیکن تعلیمی اداروں اور خاص کر مدارس و مکاتب ابھی تک بند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان مدارس و مکاتب میں پڑھانے والے علما و حفاظ کو آٹھ ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی ہے ۔ ان کا اور ان کے اہل خانہ کا گزر بسر کیسے ہوگا اور کس طرح ہوتا ہوگا ؟ عبیداللہ قاسمی نے کہا کہ مدرسوں کے مہتمم اور ان کے گھریلو اخراجات پرتو کورونا اور لاک ڈاون کے قہر کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہوگا ، کیوں کہ عام طور پر آج زیادہ تر مدارس ، ان کے مہتمم کے لئے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح رجسٹرڈ ہیں ۔ جس طرح فیکٹریوں کے بند ہوجانے سے ان میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے ، لیکن فیکٹریوں کے مالکوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ، ٹھیک یہی حال آج مدرسوں مسجدوں اور مکتبوں میں دینی خدمت کرنے والے علماء ، حفاظ اور امام و موذن کا ہوگیا ہے ۔ بہت سارے مدرسوں ، مکتبوں اور مسجدوں میں تو دینی خدمت کرنے والے علماء و حفاظ اور امام و موذن کو انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے چھٹی کردی کہ لاک ڈاؤن کی مدت کی تنخواہ نہیں ملے گی ۔ جب حالات ٹھیک ہوجائیں گے ، اس کے بعد ہی تنخواہ ملے سکے گی ۔ حالانکہ منتظمین کے اس غیر انسانی و غیر اسلامی و غیر اخلاقی رویہ پر دارالعلوم دیوبند اور امارت شرعیہ اور دوسرے اداروں کا تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلے میں تنبیہی و ترغیبی فتوی بھی شائع ہوا ، جس کا کوئی خاص اثر مدارس و مساجد کی انتظامیہ پر نہیں ہوا ۔

    مولانا عبید اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ مسجدوں ، مدرسوں اور مکتبوں میں دینی خدمت کرنے والے علما حفاظ اور ائمہ کرام و موذنین کی تنخواہیں پہلے سے اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے ظاہر کرنے میں شرم آتی ہے ۔ غور کرنے والی بات ہے کہ اتنی کم تنخواہ بھی اگر ان کو آٹھ دس مہینے سے نہ ملے اور اگر کہیں ملے بھی تو وقت پر نہ ملے تو دین کے ان غیرت مند خدمتگاروں کی کیا حالت ہوتی ہوگی ۔

    ڈاکٹرعبید اللہ قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالاتِ میں سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ مدارس و مکاتب سے جڑے ہوئے علماء کرام و حفاظ کرام و مدرسین اور مسجدوں کے امام و موذن حضرات ہیں ۔ لہذا مسلمانوں کی انسانی ، ایمانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے علماء ، حفاظ و مدارس کے مدرسین اور مسجدوں کے امام و موذن کی ذاتی طور پر دل کھول کر مالی مدد اور ان کا ہر طریقے سے تعاون کریں ۔ کیونکہ لاک ڈاون کی وجہ سے رمضان کے موقع پر زکوۃ و فطرہ اور صدقات کی فراہمی بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں ہو پائی اور چرم قربانی تو سنگھی حکومت کی سازش کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے بند ہیں۔

    ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ مدارس و مساجد ہمارے دینی قلعے ہیں ۔ ان کے مستحکم اور مضبوط ہونے سے معاشرے میں دین و اسلام مضبوط ہوتا ہے اور نسلوں میں دین انہیں دینی اداروں سے ان میں دینی خدمت کرنے والوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: