உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دو نابالغ لڑکیوں نے مندر میں کی شادی اور پھر کیا ایسا کام ، پولیس کو بھی کرنی پڑگئی کافی محنت

    دو نابالغ لڑکیوں نے مندر میں کی شادی اور پھر کیا ایسا کام ، پولیس کو بھی کرنی پڑگئی کافی محنت

    دو نابالغ لڑکیوں نے مندر میں کی شادی اور پھر کیا ایسا کام ، پولیس کو بھی کرنی پڑگئی کافی محنت

    Gay Marriage in Dhanbad: خاتون تھانہ میں کافی سمجھانے کے بعد دونوں نے یہ مان لیا کہ وہ بالغ ہونے تک الگ الگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہیں گی ۔ خاتون تھانہ میں بانڈ بھرواکر دونوں کو اپنے اپنے کنبہ کے حوالے کردیا گیا ۔

    • Share this:
      جھارکھنڈ کے دھنباد میں ہم جنس پرستی کی ایک شادی کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے ۔ سرائے ڈھیلا تھانہ علاقہ میں دو نابالغ لڑکیوں نے آپس میں شادی کرلی ۔ جب دونوں کے اہل خانہ کو اس بات کی جانکاری ہوئی تو وہ تھانہ پہنچ گئے ۔ دونوں لڑکیوں کو بھی تھانہ بلایا گیا ، لیکن دونوں ایک دوسرے سے الگ رہنے کیلئے تیار نہیں ہوئیں ۔ بعد میں خاتون تھانہ میں دونوں کی کاونسلنگ کرائی گئی اور بالغ ہونے تک الگ رہنے کیلئے منالیا گیا ۔

      دونوں لڑکیوں میں سے ایک کی عمر 13 سال اور دوسری کی 14 سال ہے ۔ شادی کی جانکاری اہل خانہ کو اس وقت ہوئی جب انہوں نے ایک لڑکی کی مانگ میں سندور اور گلے میں منگل سوتر دیکھا ۔ اہل خانہ نے لڑکی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے مندر میں شادی کرنے کی بات کہی ۔ یہ سنتے ہی اہل خانہ آپے سے باہر ہوگئے ۔

      اہل خانہ دوسری لڑکی کے گھر پہنچے اور معاملہ کی جانکاری دی تو اس کے اہل خانہ بھی پریشان ہوگئے ۔ اہل خانہ نے دونوں لڑکیوں کو سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن دونوں ایک دوسرے سے الگ رہنے کیلئے تیار نہیں ہوئیں ۔

      بعد میں یہ معاملہ سرائے ڈھیلا تھانہ پہنچا ۔ پولیس نے دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی ، مگر دونوں راضی نہیں ہوئیں تو انہیں خاتون تھانہ لایا گیا ۔ خاتون تھانہ میں دونوں کی کاونسلنگ کی گئی ۔ اس دوران دونوں لڑکیاں ایک ساتھ رہنے پر بضد رہیں ۔

      حالانکہ کافی سمجھانے کے بعد دونوں نے یہ مان لیا کہ وہ بالغ ہونے تک الگ الگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہیں گی ۔ خاتون تھانہ میں بانڈ بھرواکر دونوں کو اپنے اپنے کنبہ کے حوالے کردیا گیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: