உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ میں صحافی کے قتل پر جے ڈی یو کا تیکھا جوابی حملہ ، یہاں جنگل راج اور وہاں پر؟

    رانچی : بہار کے سیوان میں ایک ہندی روزنامہ کے صحافی راجدیو رنجن کا گولی مار کر قتل کے بعد پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے دیوریا میں بھی ایک نیوز چینل کے 35 سالہ صحافی اکھلیش پرتاپ سنگھ کا قتل کر دیا گیا  ہے ۔

    رانچی : بہار کے سیوان میں ایک ہندی روزنامہ کے صحافی راجدیو رنجن کا گولی مار کر قتل کے بعد پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے دیوریا میں بھی ایک نیوز چینل کے 35 سالہ صحافی اکھلیش پرتاپ سنگھ کا قتل کر دیا گیا ہے ۔

    رانچی : بہار کے سیوان میں ایک ہندی روزنامہ کے صحافی راجدیو رنجن کا گولی مار کر قتل کے بعد پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے دیوریا میں بھی ایک نیوز چینل کے 35 سالہ صحافی اکھلیش پرتاپ سنگھ کا قتل کر دیا گیا ہے ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      رانچی : بہار کے سیوان میں ایک ہندی روزنامہ کے صحافی راجدیو رنجن کا گولی مار کر قتل کے بعد پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے دیوریا میں بھی ایک نیوز چینل کے 35 سالہ صحافی اکھلیش پرتاپ سنگھ کا قتل کر دیا گیا  ہے ۔ جھارکھنڈ میں ہوئے اس قتل پر بہار کی حکمراں جماعت جے ڈی یو نے اپوزیشن پر تیکھا جوابی حملہ بولا ہے۔

      جے ڈی یو لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ ایک ریاست میں قتل جنگل راج اور دوسری ریاست میں؟ میں دونوں ہی صحافیوں کی موت پر غم کا اظہار کرتا ہوں ۔ خیال رہے کہ اکھلیش کے قتل کے خلاف جمعہ کو چترا شہر بند رہا ۔ صحافی کے قتل کے خلاف رانچی میں احتجاج کیا گیا ۔ البرٹ اکا چوک پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں نے سیاہ بیج لگا کر احتجاج کیا ۔ اس دوران سب نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ سے پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ، تاکہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا مل سکے۔

      آر جے ڈی کے ترجمان منوج جھا نے کہا کہ صحافی کے قتل سے ہمیں صدمہ پہنچا ہے، دوسری بات گزشتہ کچھ دنوں میں جتنے بھی معاملات سامنے آئے ہیں ، ہم نے 48-72 گھنٹے میں حل کرلیا ہے۔ آج ہی اخبار دیکھا، اس طرح کے 6-7 واقعات ہوئے ہیں ، لیکن بہار کو مہاجنگل راج قرار دینا ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ تعصب پر مبنی ہے ۔  کوٹہ میں دو طالب علموں کا ظالمانہ قتل ہوا، کسی صحافی بھائی نے نہیں کہا کہ وہاں بھی جنگل راج ہے ۔ اس سے ہمارا دل دکھتا ہے ۔
      First published: