உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایم پی حکومت اور جونیئر ڈاکٹروں کے بیچ بڑھا ٹکراؤ، جانیں کیا ہے معاملہ۔۔۔

    محکمہ صحت کے انیس ہزار ملازمین کی غیر معینہ ہڑتال کو ختم کرواکر حکومت نے راحت کی بھی سانس نہیں لی تھی کہ ریاست کے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر پھر ہڑتال شروع کردی ہے۔

    محکمہ صحت کے انیس ہزار ملازمین کی غیر معینہ ہڑتال کو ختم کرواکر حکومت نے راحت کی بھی سانس نہیں لی تھی کہ ریاست کے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر پھر ہڑتال شروع کردی ہے۔

    محکمہ صحت کے انیس ہزار ملازمین کی غیر معینہ ہڑتال کو ختم کرواکر حکومت نے راحت کی بھی سانس نہیں لی تھی کہ ریاست کے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر پھر ہڑتال شروع کردی ہے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں کورونااور بلیک فنگس کے بیچ ملازمین تنظیموں کے ِذریعہ روز روز کی جانے والی ہڑتال نے شیوراج سرکار کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ محکمہ صحت کے انیس ہزار ملازمین کی غیر معینہ ہڑتال کو ختم کرواکر حکومت نے راحت کی بھی سانس نہیں لی تھی کہ ریاست کے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر پھر ہڑتال شروع کردی ہے۔ حالانکہ حکومت کے ذریعہ ملازمین کے چھ نکاتی مطالبات میں سے چار پر عمل کرنے کا اعلان بھی کیاگیا مگر جونیئر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے حکومت کے زبانی وعدوں کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ہڑتال کو نہ صرف جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے بلکہ کل سے کووڈ مریضوں کو بھی دیکھنے سے منعہ کردیا ہے۔
    مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ کووڈ اور بلیک فنگس کے قہر کے بیچ ہڑتال کرنا کسی بھی طور پر درست نہیں ہے ۔ اس کے باؤجود حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے چھ مطالبات میں سے چار مطالبات پر عمل شروع کردیا ہے ۔ جہاں اسٹائیپنڈمیں اضافہ کا مطالبہ ہے تو حکومت اس میں ایسا کام کر رہی ہے کہ آئیندہ اس میں کسی اضافہ کے مطالبہ کے لئے کسی تحریک کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ۔ اس کے باوجود اگر جونیئر ڈاکٹر ضد پر اڑے ہیں تو وہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں انسانیت کا فریضہ ادا کرنا چاہئے۔

    وہیں جونیئر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کے ڈیویزنل صدر ہریش پاٹھک کہتے ہیں کہ حکومت ہر بار کی طرح اس بار بھی زبانی عدہ کر رہی ہے ۔ حکومت جو بات کررہی ہے اس کا ثبوت کیا ہے اور جب تک حکومت کسی طورپر ہمیں تحریری طور پر لکھ کر نہیں دیتی ہے ہم اپنی ہڑتال جا ری رکھیں گے ۔ ایک جانب حکومت ہم سے انسانیت کا فریضہ ادا کرنے کی بات کرتی ہے۔ دوسری جانب جو نیئروں ڈاکٹروں کے خلاف سابقہ تاریخوں میں متعلقہ شعبوں کے چیرمین اور ڈین پر دباؤ بناکر ہماری غیر حاضری دکھائی جارہی ہے جسے کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ہم اس معاملے میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔

    اگر وزیر اعلی کے یہاں سے فون آتاہے اور بات کی جاتی ہے تو اپنی ہڑتال کے بارے میں سوچیں گے مگر وہاں سے بھی ہمیں نطر انداز کیا جاتا ہے تو کل سے نہ صرف ایمرجنسی سروس بندرہیں گی بلکہ کووڈ مریـضوں کا بھی جونیئر ڈاکٹر علاج نہیں کرینگے ۔حکومت کو ہم نے پہلے ہی بتا دیا تھا اب اگر ریاست میں طبی خدمات مفلوج ہوتی ہیں تو اس کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہوگی ۔ حکومت اور جونیئرڈاکٹروں کے سخت تیور کو دیکھتے ہوئے تو یہی کہاجائے گا کہ آنے والے دنوں میں ہڑتال کا رخ اور سخت ہوگا اور مد ھیہ پردیش میں طبی خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: