ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں جونئیر ڈاکٹروں کو ہوسٹل خالی کرنے کا احکام جاری

وہیں حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف اٹھائیس ڈاکٹروں کے استعفی کو منظور کرلیا ہے بلکہ انہیں بانڈ کی رقم جلد سے جلد ادا کرکے ہوسٹل بھی خالی کرنے کا احکام جاری کردیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں  جونئیر ڈاکٹروں کو ہوسٹل خالی کرنے کا احکام جاری
وہیں حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف اٹھائیس ڈاکٹروں کے استعفی کو منظور کرلیا ہے بلکہ انہیں بانڈ کی رقم جلد سے جلد ادا کرکے ہوسٹل بھی خالی کرنے کا احکام جاری کردیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال چھٹے دن بھی جاری ہے ۔ حکومت کے موقف کے خلاف جونیئرڈاکٹروں نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے تین مئی کو اجتماعی استعفی پیش کیا تھا۔ وہیں حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف اٹھائیس ڈاکٹروں کے استعفی کو منظور کرلیا ہے بلکہ انہیں بانڈ کی رقم جلد سے جلد ادا کرکے ہوسٹل بھی خالی کرنے کا احکام جاری کردیا ہے۔ جونیڈر ڈاکٹروں نے حکومت کے اس قدم کو جًبر سے تعبیر کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں چھ نکاتی مانگوں کو لیکر جونیئر ڈاکٹروں کے ذریعہ گزشتہ چھ ماہ سے وقت وقت پر تحریک چلائی جاتی رہی ہے۔ اس تحریک نے شدت اس وقت اختیار کر لی جب وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن کے ذریعہ جونیئر ڈاکٹروں پر مریضوں کے نام پر بلیک میلنگ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کاروائی کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ حکومت کے سخت موقف سے جونیئر ڈاکٹروں نے حالانکہ تین مئی کو پینتس سو جونیئرڈاکٹروں نے اجتماعی استعفی دیا تھا مگر حکومت نے پینتس سو جونیئرڈاکٹروں کے استعفی میں سے صرف اٹھائیس جونیئر ڈاکٹروں کے استعفی کو قبول کیا ہے اور ساتھ ہی میڈیکل سیٹ خٓالی ہونے کے عوض میں بانڈ کی شرائط پر رقم بھرنے کا بھی فرمان جاری کیا ہے۔


جونیئرڈاکٹر ایسو سی ایشن کے سکریٹری ڈاکٹر شبھم چورسیا کہتے ہیں کہ حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے صرف اٹھائیس ڈاکٹروں کے استعفی کو ہی منظور کیاہے جبکہ سبھی ڈاکٹروں نے ایک ساتھ استعفی دیا تھا۔ یہی نہیں حکومت نے بانڈ کی رقم جو دس لاکھ ہوتی تھی اس کی جگہ تیس لاکھ روپیہ بانڈ کی شکل میں بھرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ حکومت ہمارے اسٹائیپنڈ کی رقم میں دس ہزار روپیہ کا اضافہ نہیں کر رہی ہے جبکہ طلبا سے بانڈ کی رقم کے نام پر دس لاکھ کی جگہ تیس لاکھ وصول کرنے کا احکام جاری کرتی ہے۔


حکومت کے ذریعہ میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ہماری چھ میں سے چار مانگوں کو منظور کرلیاگیا ہے لیکن حکومت نے آج تک اسے لیکر احکام جاری نہیں کیا ہے ۔جونیئر ڈاکٹر حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن آج تک وزیر ہوں یا سی ایم کسی کا فون نہیں آیا ہے ۔کووڈ ۱۹ میں جان کی بازی لگاکر کام کرنے والے ڈاکٹروں کی وفاداری کی یہ سزا ملے گی یہ سرکارسے امید نہیں تھی۔ سرکار کچھ بھی ظلم کرلے ہماری ہڑتال جاری رہے گی ۔ مطالبہ منظور نہیں ہوگا تو یہاں سے ہماری ارتھیاں جائینگی۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ جونیئر ڈاکٹروں کے چھ مطالبے کو پورا کیا جا چکا ہے لیکن جونیئرڈاکٹر اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے ۔کووڈ قہر میں اس طرح کی ضد اچھی بات نہیں ہے ۔جونیڈر ڈاکٹروں کو ضد چھوڑکر کام پر واپس لوٹنا چاہیئے۔ جہاں تک کانگریس کی بات ہے وہ مریضوں کی مشکلات پر سیاست کر رہی ہے اسے عوام کی مشکلات سے کبھی سروکارسے کبھی تعلق نہیں تھا۔
مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے انچارج جیتو پٹواری جونیڈر ڈاکٹرو کی ہڑتال کے لئے شیوراج حکومت کی ناقص پالیسی کو ذمہ دار مانتے ہیں ۔ جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ حکومت جن مانگوں کو پورا کرنے کا میڈیا پر اعلان کر رہی ہے اس کا احکام اسے جاری کرنا چاہیے۔ کانگریس جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ا ن کے حقوق کے لئے ہر محاذ پر لڑے گی۔
بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 05, 2021 08:06 PM IST