உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ، کام بند کرکے ریاست گیر سطح پر شروع کی ہڑتال

    حکومت جونیئرڈاکٹروں پر جبر کرنے کے ساتھ ہر قدم پر رسوا کررہی ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج ریلی اور ارتھی نکال کر احتجاج کیا ہے ۔جونئیر ڈاکٹروں نے سبھی کام بند کردیئے ہیں ۔مریضوں کی مشکلات کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہے ۔

    حکومت جونیئرڈاکٹروں پر جبر کرنے کے ساتھ ہر قدم پر رسوا کررہی ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج ریلی اور ارتھی نکال کر احتجاج کیا ہے ۔جونئیر ڈاکٹروں نے سبھی کام بند کردیئے ہیں ۔مریضوں کی مشکلات کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہے ۔

    حکومت جونیئرڈاکٹروں پر جبر کرنے کے ساتھ ہر قدم پر رسوا کررہی ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج ریلی اور ارتھی نکال کر احتجاج کیا ہے ۔جونئیر ڈاکٹروں نے سبھی کام بند کردیئے ہیں ۔مریضوں کی مشکلات کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں جونئیرڈاکٹروں اور حکومت کے بیچ تکرار اتنی بڑھ گئی ہے کہ جونینئر ڈاکٹروں نے سبھی اداروں میں طبی خدمات بند کرنے کے ساتھ ایمرجنسی سروس کو بھی بند کر کے اپنی ہڑتال شروع کردی ہے۔ جونیئر ڈاکٹروں نے شیوراج سنگھ حکومت پر جبر کرنے کے ساتھ ہائی کورٹ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ وہیں حکومت نے ریاست میں جونیئر ڈاکٹروں کی کسی قسم کی ہڑتال کے ہونے سے ہی انکار کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں جو نیئر ڈاکٹروں نے اپنے سات نکاتی مطالبات کو لیکر اکتیس مئی کو ہڑتال شروع کی تھی ۔ جونئیر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتےہوئے جبلپور ہائی کورٹ نے انہیں ہڑتال ختم کرکے فوری طور پر جہاں کام پر لوٹنے کی ہدایت دی تھی وہیں حکومت کو کمیٹی کو تشکیل دیکر جونیئر ڈاکٹروں کے مسائل کو حل کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ جونیئر ڈاکٹروں نے ہائی کورٹ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف ہڑتال ختم کی بلکہ اپنے اپنے کام پر واپس لوٹ گئے لیکن حکومت کے ذریعہ اسی بیچ ہڑتال میں شامل جونیئر ڈاکٹروں کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ میڈیکل کاؤنسل کو خط لیکر ڈاکٹروں کے رجسٹریشن کینسل کرنے کی سفارش کی گئی ۔ جونئیر ڈاکٹروں کے ذریعہ اس معاملے میں کئی بار وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ سے ملاقات بھی کی گئی اور ان سے جونیئر ڈاکٹروں کو جاری کئے گئے نوٹس کو واپس لینے کے ساتھ میڈیکل کاؤنسل کو ڈاکٹروں کے رجسٹریشن کینسل کرنے کے لئے لکھے گئے خط کو واپس لینے کا مطالبہ کیاگیا ۔

    حکومت کے ذریعہ جونیئر ڈاکٹروں کو نوٹس واپس لینے کا یقین تو کئی بار دلایا گیا مگر جب وقت دو ماہ سے زیادہ گزر گیا اور جونیئر ڈاکٹروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیاتو انہوں نے آر پار کی لڑانی لڑنے کااعلان کرتے ہوئے ریاست گیر سطح پر کام بند کرکے ہڑتال شروع کردی ۔ جونیئر ڈاکٹرایسو سی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر شبھم چورسیا کہتےہیں کہ جونئیر ڈاکٹروں نے عدالت کے حکم پر اپنی ہڑتال واپس لیکر کام شروع کیا تھا مگر حکومت نے ابتک اپناایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ جن سات مطالبات کو لیکر جبلپور ہائی کورٹ نے کمیٹی تشکیل دیکر حکومت سے عمل کرنے کی ہدایت دی تھی ان پر حکومت نے آج تک عمل نہیں کیا ۔ ی

    ہی نہیں حکومت نے اکیس ڈاکٹروں کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ تین ڈاکٹروں کا رجسٹریشن کینسل کرنے کے لئے بھی میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا کو خط لکھ دیا ہے جسے کبھی قبول نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت جونیئرڈاکٹروں پر جبر کرنے کے ساتھ ہر قدم پر رسوا کررہی ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج ریلی اور ارتھی نکال کر احتجاج کیا ہے ۔جونئیر ڈاکٹروں نے سبھی کام بند کردیئے ہیں ۔مریضوں کی مشکلات کے لئے حکومت خود ذمہ دار ہے ۔

    وہیں مد ھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے ریاست میں جونیئر ڈاکٹروں کی کسی قسم کی ہڑتال سے ہی انکار کیا ہے ۔ نیوز ایٹین اردو کے ذریعہ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اچھا کوئی ہڑتال ہے کیا ۔مجھے کسی ہڑتال کی کوئی خبر نہیں ہے ۔اگر کہیں کچھ ہو رہاہوگا تو افسران بات کررہے ہونگے ۔میری جانکاری میں ہڑتال جیسی کہیں کوئی بات نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ سبھی کو اپنا کام کرنا چاہیئے۔
    حکومت کی سطح پر بھلے ہی جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال پر اپنی عدم معلومات کا اظہار کیا جا رہا ہو لیکن جونیئر ڈاکٹروں نے اس بار آر پار کی لڑائی کا اعلان کیا ہے اور جب تک حکومت کے ذریعہ اکیس جونیئر کو جاری کیا گیا نوٹس واپس لینے کے ساتھ میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا کو ڈاکٹروں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا خط واپس نہیں لیا جاتا ہے تب تک ہڑتال کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مستقبل میں معاملہ اور بھی طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔
    بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
    Published by:Sana Naeem
    First published: