ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش سیاسی بحران :جیوتیرادتیہ سندھیانےدیااستعفیٰ یاکانگریس نےانہیں کیامعطل؟

جیوتر ادتیہ سندھیا نے مسز گاندھی کو بھیجے گئے خط میں لکھا ’’میں گزشتہ 18 برسوں سے پارٹی کاابتدائی رکن تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ میں پارٹی سے الگ اپنی راہ لوں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش سیاسی بحران :جیوتیرادتیہ سندھیانےدیااستعفیٰ یاکانگریس نےانہیں کیامعطل؟
جیوترادتیہ سندھا کی فائل فوٹو۔(تصویر:نیوز18)۔

مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان ​​کے درمیان کانگریس کے ناراض لیڈر جیوتیرادتیہ سندھیا نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد کانگریس سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔ سندھیا نے صبح پہلے وزیر داخلہ امت شاہ کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور پھرامت شاہ اورسندھیا دونوں مل کر وزیراعظم نریندرمودی کی رہائش گاہ پہنچے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی ملاقات کے بعد جیوتیرادتیہ سندھیا اور امت شاہ ایک ساتھ آئے۔ اس کے کچھ دیر بعدادتیہ سندھیا نے ٹوئٹر پركانگریس صدر سونیا گاندھی کو ارسال کردہ اپنےاستعفی کو پوسٹ کر دیا۔ استعفی پر پیر کی تاریخ درج ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے امت شاہ اورپی ایم مودی سے ملنے سے پہلے ہی کانگریس سے استعفی دے دیا تھا۔وہیں کانگریس نے جیوترادتیہ سندھیا کے خلاف پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں پارٹی سے معطل کرنے کی بات کہی ہے۔ کانگریس نے کہا کہ جیوتر ادتیہ سندھیا کی پارٹی مخالف سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں پارٹی سے  معطل کردیاگیاہے۔ادھرسینئر کانگریس لیڈر جیوترادتیہ سندھا کے بعد ان کے حامی ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں نے  استعفی دیا۔


وہیں دوسری جانب جیوتر ادتیہ سندھیا نے مسز گاندھی کو بھیجے گئے خط میں لکھا ’’میں گزشتہ 18 برسوں سے پارٹی کاابتدائی رکن تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ میں پارٹی سے الگ اپنی راہ لوں۔ میں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے اور انڈین نیشنل کانگریس سے استعفی دے رہا ہوں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد اور ہدف ملک اور اپنی ریاست کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ کانگریس کے اندر یہ کام آگے نہیں بڑھا پائیں گے۔استعفی میں ماضی میں لوک سبھا انتخابات میں گنا شوپري سیٹ پر ان کی شکست کا درد بھی چھلک گیا جس کے لئے وہ کانگریس کی ریاستی قیادت کی سازش کو ذمہ دار مانتے ہیں اور یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس سے مجروح ہو کر وہ گزشتہ برس سے ہی کانگریس سے باہر جانے کی سوچ رہے تھے۔


جیوتر ادتیہ سندھیا نے کے استعفیٰ سے مدھیہ پردیش کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے یقینی ہیں۔ گوالیار۔چمبل اور شمالی مالوا علاقے میں جیوتر ادتیہ سندھیا کے اثر کی وجہ سے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو سب سے زیادہ کامیابی ملی تھی۔ مانا جا رہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 4 سے 6 وزیر اور 15 سے زیادہ ممبران اسمبلی سندھیا کی حمایت میں استعفی دے سکتے ہیں۔ ان کے جیسے بڑے اور ذاتی طو ر پر عوام میں مقبول لیڈر کانگریس اور بی جے پی کسی بھی پارٹی میں نہیں ہے۔ ان کے کانگریس چھوڑنے سے مستقبل میں مدھیہ پردیش کی سیاسی سطح پر کانگریس کے وجود کے لئے سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔


مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سیاست میں احترام نہیں ملنے کی وجہ ناراض سندھیا کے حامی 20 سے زائد حامی ممبر اسمبلی بنگلور میں ہیں۔ گزشتہ تین چار دنوں سے کانگریس کے ممبران اسمبلی کی بغاوت کے بعد وزیر اعلی کمل ناتھ نے دہلی میں کانگریس اعلی ٰکمان سے ملاقات کی تھی۔ لیکن وہ سندھیا کو منانے میں ناکام رہے۔
First published: Mar 10, 2020 02:01 PM IST