ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال: شاعر فطرت کیف بھوپالی کو کیا گیا یاد

عام طور پر لوگ کیف بھوپالی کو رومانی شاعر کے ساتھ فلم کا گیت کار سمجھتے ہیں لیکن کیف بھوپالی نے عوامی شاعری اور فلم نغمہ نگاری کے ساتھ قران کریم کا جس طرح سے منظوم ترجمہ کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

  • Share this:
بھوپال: شاعر فطرت کیف بھوپالی کو کیا گیا یاد
بھوپال: شاعر فطرت کیف بھوپالی کو کیا گیا یاد

بھوپال۔ کیف بھوپالی کا سلسلہ نسب خواجہ اجمیری کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہرونی سے ملتا ہے ۔کیف بھوپالی کے بزرگ کشمیر سے ہجرت کر کے لکھنؤ  اور پھر نواب شاہجہاں بیگم کے عہد میں بھوپال میں آکر مقیم ہوگئے تھے۔ اسی شہر غزل میں بیس فروری انیس سو سترہ کو کیف بھوپالی کی ولادت ہوئی اور پھر چوبیس جولائی انیس سو اکانوے کو بھوپال کی خاک کا حصہ بنے۔ کیف بھوپالی کو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا۔ کیف کی والدہ صالحہ خانم عاجز ؔبہترین لب ولہجہ کی شاعرہ تھیں۔ گھرکا علمی و ادبی ماحول اور بھوپال کی خاص فضا نے کیف کی شاعری کی جانب مائل کیا۔ کیف کی پوری زندگی حادثوں سے عبارت رہی ہے ۔ دنیا سے جو داغ اور غم انہیں ملے اسے انہوں نے پوری صداقت کے ساتھ اپنی شاعری میں سمو دیا۔ لہجے میں کیف نے میرؔ کی تقلید ضروری کی لیکن مزاجا وہ نشاطی رنگ و آہنگ کے شاعر تھے ۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں شاعری کرنے کے ساتھ فلموں میں مشہور نغمے بھے لکھے۔


کیف بھوپالی کی بیٹی ڈاکٹر پروین کیف جو خود بہترین لب ولہجہ کی شاعرہ ہیں بتاتی ہیں کہ کیف صاحب کو فلموں میں گیت لکھنے کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن کمال امروہوی جو ان کے دوست تھے انکی فرمائش پر فلموں میں گیت لکھے اور ان کے لکھے گیت بہت مقبول ہوئے ۔ ابا نے جن فلموں میں گیت لکھے ان میں فلم دائرہ، رضیہ سلطان،پاکیزہ ،شنکر حسین،مان کے نام قابل ذکر ہیں ۔رضیہ سلطان میں ان کا لکھا نغمہ (آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے)،فلم پاکیزہ کا گیت (چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو) اور فلم شنکر حسین کا بھجن (دیوتا تم ہو میرا سہارا ،میں نے تھاما ہے دامن تمہارا) عوام میں بہت مقبول ہوا ۔




عام طور پر لوگ کیف بھوپالی کو رومانی شاعر کے ساتھ فلم کا گیت کار سمجھتے ہیں لیکن کیف بھوپالی نے عوامی شاعری اور فلم نغمہ نگاری کے ساتھ قران کریم کا جس طرح سے منظوم ترجمہ کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کیف بھوپالی کے یوم ولادت پر بھوپال میں مجلس اقبال اور مسلم ویلفیئر سو سائٹی کے بینر تلے مذاکرہ کا اہتمام کیاگیا۔ مذاکرہ میں مدھیہ پردیش کے نمائندہ ادیبوں نے شرکت کی اور کیف بھوپالی کو شاعر فطرت قرار دیا۔ منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں یاد کیف کے عنوان سے منعقدہ مذاکرہ میں دانشوروں نے کیف بھوپالی کی شاعری کے ساتھ ان کے ذریعہ کئے گئے قران پاک کے منظوم ترجمہ پر خصوصی روشنی ڈالی ۔ کیف صاحب کی زندگی نے وفا نہیں کی تھی اس لئے وہ قران کریم کا منظوم ترجمہ سولہ سپارے سے زیادہ نہیں کرسکے۔ اس موقع پر کیف بھوپالی کے غیر مطبوعہ کلام کو شائع کرنے کا بھی مطالبہ کیاگیا۔

کیف بھوپالی کے شعری مجموعوں میں شعلہ حرف،آہنگ کیف،چاند کے پار،حنا حنا،گل سے لپؒی ہوئی تتلی،کوئے بتاں، اور کتابچہ میں حکومت نامہ ،اندرا نامہ ،راجیو گاندھی نامہ اور حسین ڈے کے نام قابل ذکر ہیں۔
First published: Feb 20, 2020 06:43 PM IST