ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں عبادت گاہوں کے نام پر شروع ہوئی سیاست، کمل ناتھ نے کردیا یہ بڑا مطالبہ

کمل ناتھ نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ جب عوام کی مرضی کے خلاف لاک ڈاؤن میں شراب کی دکانیں کھولی جا سکتی ہیں تو عوام کی عقیدت کا مرکز عبادت گاہیں بند کیوں ہیں؟

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں عبادت گاہوں کے نام پر شروع ہوئی سیاست، کمل ناتھ نے کردیا یہ بڑا مطالبہ
مدھیہ پردیش میں کانگریس سے نہیں سنبھل رہا ہے اپنا گھر، کئی اراکین اسمبلی جلد دیں گے استعفیٰ، بی جے پی کا دعویٰ

بھوپال: لاک ڈاؤن فور مکمل ہونے والا ہے اور لاک ڈاؤن پانچ کی تیاریاں مرکزی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتیں اپنے طور پر کررہی ہیں۔ لاک ڈاؤن فور میں کچھ چیزوں میں عوام کو رعایت دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں گرین سے گرین زون میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کو شروع کیاگیا ہے۔ وہیں راجدھانی بھوپال میں منٹینمنٹ ایریا کے باہر بھوپال میں بازار کو صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کھول دیاگیا ہے۔ مدھیہ پردیش پی سی سی کے صدر و مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے شیوراج سنگھ حکومت سے مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔


کمل ناتھ نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ جب عوام کی مرضی کے خلاف لاک ڈاؤن میں شراب کی دکانیں کھولی جا سکتی ہیں تو عوام کی عقیدت کا مرکز عبادت گاہیں بند کیوں ہیں؟ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مغربی بنگال اور کرناٹک حکومت کی طرز پر مدھیہ پردیش حکومت سے یکم جون سے سوشل ڈسٹنس کو ملحوظ رکھتے ہوئے مذہبی عبادت گاہوں  کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔


سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے شیوراج سنگھ حکومت سے مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے شیوراج سنگھ حکومت سے مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے نائب صدر رامیشور شرما کمل ناتھ کے ٹوئٹ کو سیاست کے حصے سے تعبیر کرتے ہیں۔ رامیشور شرماکہتے ہیں کہ کمل ناتھ کو مندر اور مسجداور عبادت گاہوں سے مطلب نہیں ہے بلکہ مدھیہ پردیش میں 24 سیٹوں پر جو اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے کمل ناتھ یہ کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمل ناتھ کو ووٹوں کی فکر ہے۔ کانگریس کے پیروں سے زمین کھسک گئی ہے، اس لئے کبھی مندر مسجد کی بات کرتے ہیں کبھی پجاریوں کی بات کرتے ہیں، مگر یہ عوام ہے جو سب جانتی ہے، اب کانگریس کے چھلاوے میں نہیں آنے والی ہے۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 24 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں  اسمبلی کے ضمنی انتخابات کو لے کر تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 230 سیٹیں ہیں، اس میں سے بی جے پی کے پاس 106 سیٹیں ہیں جبکہ کانگریس کے پاس کل 92 سیٹیں ہیں۔ مکمل اکثریت کے لئے دونوں ہی پارٹیوں کو 116 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: May 31, 2020 01:01 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading