உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رانچی میں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ، لگوائے گئے پاکستان مردہ آباد اور جے شری رام کے نعرے

    رانچی میں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ، لگوائے گئے پاکستان مردہ آباد اور جے شری رام کے نعرے

    رانچی میں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ، لگوائے گئے پاکستان مردہ آباد اور جے شری رام کے نعرے

    Kashmiri Youths Assaulted in Ranchi: جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے ہورنڈا تھانہ علاقہ میں تین کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مقامی لوگوں نے ہتھیار کے دم پر مارپیٹ کی ۔ اس دوران کشمیری نوجوانوں سے پاکستان مردہ آباد کے نعرے لگوائے گئے ۔

    • Share this:
      رانچی : جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے ہورنڈا تھانہ علاقہ میں تین کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مقامی لوگوں نے ہتھیار کے دم پر مارپیٹ کی ۔ اس دوران کشمیری نوجوانوں سے پاکستان مردہ آباد کے نعرے لگوائے گئے ۔ ساتھ ہی انہیں شہر چھوڑنے کی دھمکی بھی دی گئی ۔ متاثر نوجوانوں نے اس سلسلے میں ہورنڈا تھانے میں معاملہ درج کرایا ہے ۔ پولیس واقعہ کی چھان بین کررہی ہے ۔

      کشمیری نوجوان 20 سالوں سے رانچی کے کورنڈا علاقہ میں کرائے کے مکان میں رہ کر اپنی اونی کپڑے بیچتے آرہے ہیں ۔ متاثرین کی ماںیں تو انہیں ایک ہفتہ سے شہر چھوڑے کی دھمکی دی جارہی تھی ۔ بلال احمد ، شبیر احمد اور وسیم احمد ڈورنڈا کے ہاتھی خانہ علاقہ میں رہ رہے ہیں ۔ بلال نے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے مقامی لوگ انہیں ہر روز دھمکی دے رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے ساتھ مارپیٹ بھی کی جارہی تھی ۔

      بلال اور شیبر نے بتایا کہ جمعرات کو سونو نام کے مقامی نوجوان نے ہتھیار کے دم پر ان کے ساتھ مارپیٹ کی ۔ اس دوران ان سے پاکستان مردہ آباد اور جے شری رام کے نعرے لگانے کیلئے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے پاکستان مردہ آباد کے نعرے بھی لگائے ، اس کے باوجود ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ۔ مارپیٹ کے بعد ہنگامے پر دوسرے مقامی لوگ وہاں پہنچے اور کشمیری نوجوانوں کو بچایا ۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں دیوالی تک شہر چھوڑنے کی دھمکی ماضی میں بھی دی گئی تھی ۔

      پورے معاملہ کو لے کر ڈورنڈا تھانہ انچارج رمیش کمار سنگھ نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ملزمین کی تلاش کی جارہی ہے ۔ جانچ کے بعد حقائق سامنے آئیں گے ، اس کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: