உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ کے جھریا میں ہے مرزا غالب روڈ ، یہاں کبھی ادیبوں کا لگتا تھا مجمع

    جھارکھنڈ کے جھریا میں ہے مرزا غالب روڈ ، یہاں کبھی ادیبوں کا لگتا تھا مجمع

    جھارکھنڈ کے جھریا میں ہے مرزا غالب روڈ ، یہاں کبھی ادیبوں کا لگتا تھا مجمع

    مرزا غالب کا نام اس علاقہ سے وابستہ ہے۔ اس علاقہ میں ایک سڑک گزرتی ہے ، جس کا نام مرزا غالب روڈ ہے ۔ اس کے نام کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ 38 سال قبل ادیبوں نے غالب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس گلی کا نام دیا تھا۔

    • Share this:
    عظیم شاعر مرزا اسداللہ خان غالب کبھی جھارکھنڈ کے جھریا نامی کول فیلڈ علاقہ میں آئے تھے یا نہیں یہ بات دعویٰ کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی ہے ۔ لیکن مرزا غالب کا نام اس علاقہ سے وابستہ ہے۔ اس علاقہ میں ایک سڑک گزرتی ہے ، جس کا نام مرزا غالب روڈ ہے ۔ اس کے نام کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ 38 سال قبل ادیبوں نے غالب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس گلی کا نام دیا تھا۔

    اسد اللہ بیگ خان عرف مرزا غالب 27 دسمبر 1796 کو اتر پردیش کے آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آج ان کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔ ہندی اور اردو ادب میں کالے ہیرے کی نگری جھریا کا نام بہت بڑے شدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ناول نگار الیاس احمد گدی اور اردو کے مشہور افسانہ نگار غیاث احمد گدی کا تعلق جھریا شہر سے ہے۔ دونوں مشہور ادیب جھریا میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جھریا میں ہمیشہ ادبی سرگرمیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔

    اس شہر میں فارسی اور اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ بیگ خان عرف غالب کے نام سے منسوب ایک سڑک بھی ہے۔ اس سے قبل اس سڑک کا نام کولھی پدارپاڑہ روڈ تھا۔ سن 1982 میں جھریا کے ادیبوں نے اس سڑک کا نام مرزا غالب روڈ رکھا اور عظیم شاعر کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ سڑک آج بھی ہے۔ مرزا غالب روڈ میں ہندی اور اردو ادب کے لوگوں کی محفلیں جمتی ہیں۔ ادباء اور شعراء مرزا غالب کے کلام کو پیش کر کے انہیں یاد کرتے ہیں۔

    مئو کے فنکار آکر سناتے تھے شاعری : ڈاکڑ اقبال

    مرزا غالب روڈ پر رہنے والے 54 سالہ ڈاکٹر اقبال حسین کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی میں اس جگہ ایک میدان تھا۔ قریب ہی میں فردوسی صاحب کا مقبرہ بھی ہے۔ یہاں اردو اور ہندی ادب کے لوگوں کی محفلیں جمع ہوتی تھیں۔ اترپردیش کے مئو سے شمیم ​​انصاری یہاں آتے تھے اور شعر سناکر جھریا کے مصنفین کے جوش و جذبے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ایک دن ادیبوں نے متفقہ طور پر علاقے کے اس روڈ کا نام مرزا غالب روڈ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد یہ سڑک مرزا غالب کے لئے وقف کردی گئی ۔

    اوپر کولھی نامی علاقہ میں 70 کی دہائی میں ایک اردو لائبریری تعمیر ہوئی تھی۔ اردو کے مشہور افسانہ نگار غیاث احمد گدی اور فائر ایریا کے ناول نگار الیاس احمد گدی بھی اس لائبریری سے وابستہ تھے۔ وقتا فوقتا ، دونوں ادیبوں نے میدان میں ہونے والے ادبی سیمینار میں بھی حصہ لیا۔ 80 کے دہائی میں دونوں ادیبوں کے اقدام پر مرزا غالب روڈ کا نام تبدیل کر دیا گیا۔

    اوپر کالج جھریا نوری مسجد کے سکریٹری56 سالہ جاوید قریشی کا کہنا ہے کہ میری جوانی کے دور میں کلہی پدارپاڈہ روڈ کا نام مرزا غالب روڈ رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہاں ہندی اور اردو لکھنے والوں کا اجتماع ہوتا تھا۔ ادبی پروگرام بھی ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جھریا شہر کو اردو اور ہندی کے مشہور مصنفین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    اوپر کلی جھریا میں رہنے والے 60 سالہ پروفیسر شمیم ​​احمد کا کہنا ہے کہ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔ جب مصنفین وقتا فوقتا مرزا غالب روڈ کے قریب گراؤنڈ میں سیمنار کرتے تھے۔ لوگ مرزا غالب کے شعر کو پڑھتے اور سناتے تھے۔ ان کی شاعری کی بے حد تعریف کی جاتی تھی۔ در حقیقت غالب فارسی اور اردو کے عظیم شاعر تھے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: