اپنا ضلع منتخب کریں۔

    لالو پرساد یادو کو کڈنی عطیہ کرنے کا بیٹی روہنی نے کیوں لیا فیصلہ اور کیسے مان گئے آر جے ڈی سپریمو؟

    اس کے لیے انھوں نے اپنے خون کا نمونہ بھی والد لالو پرساد یادو کے بلڈ گروپ سے میچ کرایا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ رواں ماہ کے آخر یا دسمبر میں ہو سکتا ہے۔

    اس کے لیے انھوں نے اپنے خون کا نمونہ بھی والد لالو پرساد یادو کے بلڈ گروپ سے میچ کرایا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ رواں ماہ کے آخر یا دسمبر میں ہو سکتا ہے۔

    اس کے لیے انھوں نے اپنے خون کا نمونہ بھی والد لالو پرساد یادو کے بلڈ گروپ سے میچ کرایا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ رواں ماہ کے آخر یا دسمبر میں ہو سکتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bihar, India
    • Share this:
      نئی دہلی: ان کی بیٹی روہنی بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کو گردہ عطیہ کریں گی۔ علاج کے دوران لالو پرساد یادو کے سائے کی طرح رہنے والی لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ یادو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گردہ عطیہ کرکے اپنے والد کو نئی زندگی دیں گی۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے خون کا نمونہ بھی والد لالو پرساد یادو کے بلڈ گروپ سے میچ کرایا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹرانسپلانٹ رواں ماہ کے آخر یا دسمبر میں ہو سکتا ہے۔ 74 سالہ لالو پرساد یادیو گزشتہ ماہ سنگاپور سے واپس آئے تھے، جہاں وہ اپنے گردے کی تکلیف کے علاج کے لیے گئے تھے۔ لالو یادو جو کہ صحت کے کئی مسائل سے دوچار ہیں، انہیں وہاں کے ڈاکٹروں نے گردے کی پیوند کاری کا مشورہ دیا ہے۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق لالو پرساد یادو کو ڈاکٹروں سے گردے کی پیوند کاری کا مشورہ ملنے کے بعد سنگاپور میں رہنے والی ان کی بیٹی روہنی اچاریہ نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے بات کی اور اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے اور والد کے خون کے نمونے چیک کروائے ۔ جیسے ہی ان کا بلڈ گروپ میچ ہوا، روہنی نے بالکل نہیں ہچکچایا اور اپنے والد کو نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ لالو پرساد یادو اس وقت دہلی میں ہیں اور چارہ گھوٹالہ کیس میں ضمانت پر باہر ہیں۔

      میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لالو پرساد یادو اور روہنی اچاریہ یادو کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے یعنی بلڈ گروپ اے بی پازیٹو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روہنی اچاریہ نے گردہ عطیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چونکہ روہنی خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں اس لیے اس نے سنگاپور کے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا اور ڈاکٹروں نے روہنی کو لالو پرساد یادو کے گردے کی پیوند کاری کے لیے بہترین امیدوار سمجھا۔
      حالانکہ لالو پرساد یادو اس کے لیے تیار نہیں تھے لیکن لالو یادو کو ڈاکٹروں اور بیٹی روہنی اچاریہ نے اچھی طرح سمجھایا کہ اگر وہ گردہ لیتے ہیں تو خاندان کے افراد کی کامیابی کی شرح زیادہ رہتی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: