ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

رانچی میں معروف شاعر خورشید اکبر کے اعزاز میں ادبی محفل کا ہوا انعقاد

اردو کے معروف عالمی شاعر، تنقید نگار اور حکومت بہار میں سابق بیورو کریٹ رہے ’خورشید اکبر کے نام ایک شام ‘کا انعقاد رانچی کے ہٹیا واقع ہیساگ نامی مقام میں کیا گیا جس میں جھارکھنڈ کے علاوہ بہار کے کئی نامی گرامی شعرا اور ادیبوں نے شرکت کی۔

  • Share this:
رانچی میں معروف شاعر خورشید اکبر کے اعزاز میں ادبی محفل کا ہوا انعقاد
رانچی میں معروف شاعر خورشید اکبر کے اعزاز میں ادبی محفل کا ہوا انعقاد

رانچی۔ اردو کے معروف عالمی شاعر، تنقید نگار اور حکومت بہار میں سابق بیورو کریٹ رہے ’خورشید اکبر کے نام ایک شام ‘کا انعقاد رانچی کے ہٹیا واقع ہیساگ نامی مقام میں کیا گیا جس میں جھارکھنڈ کے علاوہ بہار کے کئی نامی گرامی شعرا اور ادیبوں نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی صدارت رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر پروفیسر جمشید قمر نے کی۔ اس موقع پر باباصاحب بھیم رائو امبیدکر، پسماندہ تحریک کے بانی عاصم بہاری اور انہدام بابری مسجد کو یاد کیا گیا۔


دو سیشن میں منعقد ’’ادبی محفل‘‘ کے ایک سیشن کی صدارت انجمن جمہوریت پسند مصنفین کے ریاستی سکریٹری ایم زیڈ خان نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جو اٹھاپٹخ ہورہی ہے، اس سے غریب اور غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اور مضبوط ہوتاجارہا ہے۔ موقع پر پروفیسر رضوان علی انصاری نے کہاکہ ملک میں بابری مسجد کی واردات ایک تاریخی واقعہ ہے۔ جسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے سیشن میں شعرائے کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔


بہار سے آئے مہمان جناب خورشید اکبر نے اپنی مشہور غزلوں کو پیش کیا۔ جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ اس سیشن کے آخر میں ایم اے حق صاحب نے افسانچے سنائے ۔ موقع پر اردو کے استاذ اعجاز احمد، غالب نشتر ، محمد وارث جمال، مولانا حیدر، دانش ایاز، راشد جمال، پروفیسر شاکر انصاری، عبدالاحد،فیض الرحمن، سبیلہ علی ، ادیبہ علی، عصمت عنبری، ثنا خان، یاسمین خاتون، آزاد انصاری، کامریڈ ندیم خان، نثار انصاری، دلشاد نظمی، آسیہ خاتون وغیرہ نے سوال و جواب میں اپنی موجودگی کو ثمرآور کیا۔ رسم شکریہ غالب نشتر اور مولانا حیدر نے مشترکہ طورپر ادا کیے ۔ یہ جانکاری دانش ایاز نے دی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 08, 2020 09:46 AM IST