உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شنکراچاریہ کی ڈیڑھ کروڑ کی لگژری بس پرمدھیہ پردیش حکومت مہربان، روڈ ٹیکس میں چھوٹ

    بھوپال۔ شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی کا نام ایک بار پھر چرچا میں ہے۔

    بھوپال۔ شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی کا نام ایک بار پھر چرچا میں ہے۔

    بھوپال۔ شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی کا نام ایک بار پھر چرچا میں ہے۔

    • Share this:
      بھوپال۔ شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی کا نام ایک بار پھر چرچا میں ہے۔ اس بار اس کے پیچھے وجہ ان کا بیان نہیں بلکہ ایک ڈیڑھ کروڑ کی قیمت والی بس ہے۔ بس کو لے کر مدھیہ پردیش میں ایک وزیر اور ایک محکمہ کے آمنے سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے انہیں نو لاکھ کی ٹیکس چھوٹ دے دی ہے۔

      شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی نے 15 لاکھ روپے کی بس خریدی تھی اور اس میں کام کرانے کے بعد اس بس کی قیمت تقریبا سوا کروڑ ہو گئی۔ ریاست کے وزیر داخلہ بابو لال گور شنکراچاریہ کی اس لگژری بس پر لگنے والے روڈ ٹیکس کو معاف کروانا چاہتے تھے، لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ نے ٹیکس معافی کو لے کر انکار کر دیا تھا۔  اس ٹیکس کو دینے سے شنکراچاریہ کے انکار پر وزیر داخلہ بابو لال گور نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو خط لکھ ڈالا۔

      مدھیہ پردیش کابینہ نے آج دوارکا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی کی سوا کروڑ کی عالیشان بس کو روڈ ٹیکس سے چھوٹ دینے کے بارے میں فیصلہ کیا۔
      First published: