ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش مدرسہ ٹیچرس نے سپریم کورٹ جانے کا کیا فیصلہ ، جانئے کیا ہے معاملہ

آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے سکریٹری صہیب قریشی کہتے ہیں کہ ہم تو چار سال میں حکومت اور ان کے نمائندوں کے درواۃ کھٹکھٹاتے تھک گئے ہیں ۔ لیکن مرکز سے لے کر صوبہ تک کوئی ہماری بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش مدرسہ ٹیچرس نے سپریم کورٹ جانے کا کیا فیصلہ ، جانئے کیا ہے معاملہ
مدھیہ پردیش مدرسہ ٹیچرس نے سپریم کورٹ جانے کا کیا فیصلہ ، جانئے کیا ہے معاملہ

مرکزی اور صوبائی حکومت کے ذریعہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کی بات ہر جگہ تو بہت زور وشور سے کہی جاتی ہے ، لیکن اقلیتیوں کے مسائل کے حل میں اس کا نفاذ کہیں نہیں دکھائی دیتا ہے۔ مدھیہ پردیش  کے اقتدار میں گزشتہ دوسالوں میں دو حکومتیں بدل گئیں اور اقلیتوں بالخصوص ایم پی مدارس کے اساتذہ کے مسائل کم  ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ کورونا کے قہر میں ان کی مشکلات میں نہ صرف اضافہ ہوگیا ہے ، بلکہ چار سال سے مدارس اساتذہ کو تنخواہیں نہ ملنے سے ان کی حالت نہ گفتہ بہ ہوگئی ہے ۔


مدھیہ پردیش میں مدرسہ بورڈ کا قیام بائیس ستمرانیس سو اٹھانوے میں عمل میں آیا تھا ۔ مدرسہ بورڈ کے قیام کا مقصد مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ مدارس کے اساتذہ کو ایس پی کیو ایم اسکیم سے جوڑ کر انہیں تعلیم کے میدان میں اپ گریڈ کرنا تھا ۔ ابتدائی چند سالوں تک تک مدرسہ بورڈ کا نظام بھی صحیح چلتا رہا اور یہاں کے طلبہ کے نتائج بھی وقت پر آتے رہے۔  اس کے بعد گزشتہ ایک دہائی سے مدرسہ بورڈ کے نظام کو جونظر لگی تو آج تک نہ تو مدرسہ بورڈ کے امتحانات کبھی وقت پر ہوتے ہیں اور نہ ہی مدارس کے اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں ہی ملتی ہیں ۔


ایسا نہیں ہے کہ مدارس اساتذہ نے اپنے مسائل کو لیکر حکومت اور اس کے نمائندوں کے دروازے نہ کھٹکھٹائے ہوں ۔ کمل ناتھ حکومت میں دوہزار انیس میں مدارس اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لے کر بھوپال میں پروگرام کا انعقاد بھی کیا تھا ، جس میں سابق سی ایم دگ وجے سنگھ اور وزیر قانون پی سی شرما کے ساتھ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے شرکت کی تھی اور پندرہ اگست دوہزار انیس سے پہلے تمام مطالبات حل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ، لیکن اگست دوہزار انیس سے اگست دوہزار بیس آگیا اور مدارس اساتذہ کے مسائل وہیں کا وہیں کھڑے ہیں ۔


آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے سکریٹری صہیب قریشی کہتے ہیں کہ ہم تو چار سال میں حکومت اور ان کے نمائندوں کے درواۃ کھٹکھٹاتے تھک گئے ہیں ۔ لیکن مرکز سے لے کر صوبہ تک کوئی ہماری بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ہم تو مدارس میں حکومت کی اسکیم کے تحت طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ہمارے ساتھ امتیاری سلوک جاری ہے ۔ کورونا لاک ڈاون میں حکومت نے مالی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے کسانوں اورمزدور کی مدد تو کر رہی ہے ، لیکن ہم مجبوروں کی جانب دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔

مدرسہ سنگھ کے لوگ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور اگر یہاں معاملہ حل نہیں ہوتا ہے ، تو اپنے حقوق کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔
مدرسہ سنگھ کے لوگ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور اگر یہاں معاملہ حل نہیں ہوتا ہے ، تو اپنے حقوق کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔


بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مدرسہ ٹیچرس کی تنخواہوں کے معاملے کو لے کر ہماری سابقہ حکومت سے بات بھی ہوگئی تھی اور حکومت نے اس کے لئے خاکہ بھی تیار کرلیا تھا کہ مدراس اساتذہ کی چار سالوں کی تنخواہوں کو کیسے اداکرنا ہے ۔ مگر عمل میں آنے سے پہلے کانگریس کی حکومت چلی گئی اور اس کے بعد جو سرکار آئی ہے ، اس کا نظریہ اقلیت اور اقلیتیوں اداروں کو لے کر کیا ہے ، سب کو معلوم ہے۔ میں پھر ایک بار اس معاملے کو لے کر سی ایم اور چیف سکریٹری سے بات کروں گا ۔

وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی ترجمان رجنیش اگروال کہتے ہیں کہ کانگریس کو الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں دیکھنا چاہئے ۔ ملک میں سب سے زیادہ اس پارٹی نے حکومت کی ہے اور اس نے مسلم سماج کو صرف ووٹ بینک تک رکھ کر استعمال کیا ہے ۔ اگر کانگریس نے اقلیتیوں کے مسائل حل کئے ہوتے تو آج مدھیہ پردیش ہی نہیں ملک میں اقلیتوں کے یہ مسائل نہیں ہوتے ۔ کورونا قہر کے بیچ سرکار بنی ہے ۔ ایک ایک کر کے سبھی کے مسائل حل کئے جا رہے ہیں ۔ ہم کانگریس کی طرح ووٹ کی سیاست نہیں کرتے ہیں ۔ بی جے پی جو وعدہ کرتی ہے ، اسے پورا کرتی ہے ۔

آدھونک مدرسہ کلیان سنگھ کے صدر حافظ محمد جیند کہتے ہیں کہ کورونا کے قہر میں مدارس کے اساتذۃ طلبہ کو آن لائن پڑھانے کا کام کررہے ہیں ۔ حکومت کی عدم توجہی نے ہمیں اب اس پار یا اس پار کی لڑائی لڑنے پر مجبور کردیا ہے ۔ ایک بار پھر مدرسہ سنگھ کے لوگ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور اگر یہاں معاملہ حل نہیں ہوتا ہے ، تو ہم لوگ اپنے حقوق کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔

ایسا نہیں ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے صوبہ کے ایک دو مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں روکی ہوں ۔ بلکہ صوبہ کے ایک ہزار چھ سو بیالیس مدارس کے اساتذہ کو چار سال سے تنخواہیں روکی ہوئی ہیں ۔ مدارس اساتذہ کے حالات پہلے بھی خراب تھے اور اب کورونا کے قہر نے ان کے حالات کو مزید نہ گفتہ بہ بنا دیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 12, 2020 09:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading