ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : سندھیا خیمے کے بڑھتے قد کو کم کرنے کی بی جے پی نے شروع کی قواعد

مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی کابینہ تینتیس وزیروں پرمشتمل ہے ، جس میں سندھیا خیمہ کے چودہ اور بی جے پی کے انیس وزرا شامل ہیں ۔ کابینہ میں سندھیا خیمہ کو دی گئی وزارت اور ان کے لیڈروں کے ذریعہ دئےجا رہے بیانات پر بی جے پی کے کئی سینئر لیڈران اپنی ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : سندھیا خیمے کے بڑھتے قد کو کم کرنے کی بی جے پی نے شروع کی قواعد
مدھیہ پردیش : سندھیا خیمے کے بڑھتے قد کو کم کرنے کی بی جے پی نے شروع کی قواعد

سیاست میں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہتی ہے ۔ ساتھ رہنے والے اقتدار کے لئے کب الگ ہوجائیں گے اور سیاسی دشمن کب گلے مل جائیں گے ، کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں مدھیہ پردیش کے عوام نے دیکھا تھا کہ شیوراج اور سندھیا ایک دوسرے کو نہ صرف پورے الیکشن میں آئینہ دکھاتے رہے ، بلکہ بی جے پی کا تو نعرہ بھی تھا کہ معاف کرو مہاراج اب کے شیوراج ۔ مگر حالات بدلے اور سیاسی منظر نامہ بدلا اور اب مہاراج اور شیوراج نے اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے لئے ساتھ ساتھ کام شروع کردیا ہے۔


مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی کابینہ تینتیس وزیروں پرمشتمل ہے ، جس میں سندھیا خیمہ کے چودہ اور بی جے پی کے انیس وزرا شامل ہیں ۔ کابینہ میں سندھیا خیمہ کو دی گئی وزارت اور ان کے لیڈروں کے ذریعہ دئےجا رہے بیانات پر بی جے پی کے کئی سینئر لیڈران اپنی ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں ۔ خود بی جے پی اعلی قیادت نے اقتدارحاصل کرنے کے بعد اب یہ محسوس کرنا شروع کردیا ہے کہ اگر پارٹی میں سندھیا خیمہ کا زور کم نہیں کیا گیا ، تو ان کے اپنے لیڈر اور روایتی ووٹ سے ان دور ہو جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی زیادہ سے زیادہ کانگریس کے ممبران اسمبلی کو بی جے پی میں شامل کرکے اپنے ٹکٹ پر ضمنی انتخابات میں اتارنے کا خواب دیکھنے لگی ہے ۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کی دو سو تیس رکنی اسمبلی میں اس وقت بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی تعداد ایک سو سات ہے ، جبکہ کانگریس کے نوے ، بی ایس پی پی کے دو ، سماجوادی کا ایک اور ایک آزاد ایم ایل اے ہے ۔ جبکہ اسمبلی کی چھبیس سیٹیں اس وقت خالی ہیں ۔ ان چھبیس سیٹوں میں بائیس سیٹیں وہ ہیں ، جو سندھیا حامی کانگریس ممبران اسمبلی کے استعفی دینے کے بعد خالی ہوئی تھیں ۔ دو سیٹیں وہ ہیں جو گزشتہ ایک ہفتہ میں کانگریس کے ممبران اسمبلی نے استعفی  دیکر بی جے پی کے دامن سے واسبتگی اختیار کر لی ہے ۔ جب کہ دو سیٹیں وہ ہیں جن کے ممبران اسمبلی کا انتقتال ہونے سے وہ سیٹیں خالی ہیں ۔


اس تعلق سے اسمبلی کے ضمنی انتخابات جب بھی ہوتے ہیں تو بی جے پی کو اقتدار کا جادوئی ہندسہ حاصل کرنے کے لئے صرف نو ایم ایل اے کی ہی ضرورت ہوگی ۔ اور بی جے پی کی یہ کوشش ہے کہ اسمبلی کے صمنی انتخابات سے قبل کانگریس کے کم سے کم دس ایم ایل اے کو اور توڑ کر پارٹی میں شامل کیا جائے اور انہیں میدان میں اتار کر اپنے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی جائے تاکہ اقتدار میں بنے رہنے کے لئے اس کو سندھیا حامیوں کی بیساکھی کی ضرورت ہی نہ رہے ۔

مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر بی ڈی شرما کہتے ہیں کہ کانگریس ڈوبتا جہاز ہے اور اس کے ایم ایل اے خود پارٹی چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ کانگریس کے اندر اتنا اختلاف ہے کہ لوگ خود بخود پارٹی چھوڑکر جا رہے ہیں ۔ بی جے پی کی ورکنگ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ کار لوگوں کو پسند آرہا ہے ۔ ایک ہفتہ میں دو ایم ایل اے پارٹی چھوڑ چکے ہیں ۔ ابھی دس سے بارہ ایم ایل اے لائن میں ہیں ، جلد ہی ان کا بھی فیصلہ ہو جائے گا ۔



وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر پی سی شرما کہتے ہیں کہ ہم شروع سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی اقتدار میں بنے رہنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ وہ اقتدار کے لئے لوگوں کو استعمال کرتی ہے اور پھر کام ہونے کے بعد آگے بڑھ جاتی ہے۔ سندھیا جی اور ان کے لوگوں کا جو مرتبہ کانگریس میں تھا ، وہ انہیں وہاں نہیں مل سکتا ہے ۔ آج نہیں تو کل انہیں اپنے قدم پر پچھتاوا ہوگا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بی جے پی کے لوگ  پیسے سے ہی کام کرتے ہیں ۔ جو کانگریس کے وفادار لوگ ہیں وہ کہیں نہیں جانے والے اور جو لوگ مفاد پرستی کے لئے جا رہے ہیں ، انہیں عوام کبھی معاف کریں گے ۔  یہی نہیں سرکار بننے کے بعد بی جے پی میں اختلاف ابھر کر سامنے آنے لگے ہیں ۔ بڑھتی مہنگائی ، بے روزگاری ، بجلی اور پانی  کی قلت کے مسائل کو لیکر کانگریس اسمبلی ضمنی انتخابات میں جائے گی اور اسے کامیابی ملے گی ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مدھیہ  پردیش میں اسمبلی ضمنی انتخابات کے لئے جو چھبیس سٹیں خالی ہوئی ہیں ، ان میں سولہ سیٹوں کا تعلق گوالیار چمبل ڈویزن سے ہے ۔ بی جے پی قیادت نے گوالیار اور چمبل ڈویزن کی سولہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے شیوراج سنگھ کابینہ میں یہاں کے بارہ لیڈروں کو جگہ دی ہے ۔ گوالیار چمبل ڈویزن میں کانگریس کی عوام میں پکڑمضبوط مانی جاتی ہے ۔ اب گوالیار گھرانے سے تعلق رکھنے والے جیوترادتیہ سندھیا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد بی جے پی کے لیڈر ناراض ہوکر کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں اور پھر مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کے قریبی گوالیار چمبل کے بڑے لیڈراجے سنگھ کشواہ پی سی سی چیف کمل ناتھ سے ملاقات کر چکے ہیں ۔

سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ  سندھیا خیمہ کی طاقت کم کرنے کے لئے بی جے پی اور سنگھ کے لیڈران کانگریس کے ممبران اسمبلی کو ساتھ لانے کا کام کر رہے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ ترلیڈران کا تعلق نماڑ و مالوہ سے ہے ۔ شیوراج کابینہ کے اہم وزیر ایدل سنگھ کسانا تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کانگریس کے پندرہ لیڈرپارٹی میں شامل ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا مدھیہ پردیش میں کانگریس کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہوگا ۔

وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سابق صدر ارون یادو کہتے ہیں کہ کانگریس سے جنہیں جانا تھا وہ جا چکے ہیں ، اب ٹوٹ کا شکار بی جے پی کو ہونا ہے ۔ مہاکوشل سے پوری کابینہ میں صرف ایک وزیر کو شامل کیا گیا ہے اور اجے وشنوئی اس کی مخالفت کھل کر چکے ہیں ۔ آگے کیا کیا ہوتا ہے آپ دیکھتے رہئے ، جلد ہی سب سامنے آجائے گا ۔ شیوراج کابینہ کے اہم وزیر وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ کانگریس پہلے اپنے گھر کو بچا لے پھر بی جے پی کے انتشار کا خواب دیکھے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور سنگھ چاہتے ہیں کہ ایم پی اسمبلی کے ضمنی انتخابات زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس کے لیڈروں میں بغاوت پیدا کرکے اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ بی جے پی اپنی کوشش میں کہاں تک کامیاب ہو پاتی ہے اور کانگریس اپنے قلعے کو بچا کر بی جے پی میں کہاں تک سیندھ لگا پاتی ہے ، یہ تو اسمبلی ضمنی انتخابات کے بعد ہی پتہ لگے گا ۔ لیکن دونوں ہی پارٹیوں کے لئے اقتدار کی راہ آسان نہیں ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 19, 2020 07:12 PM IST