ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : محکمہ بجلی کے 45 ہزار آؤٹ سورس ملازمین نے کی ہڑتال ، حکومت نے کی یہ اپیل

محکمہ بجلی آؤٹ سورس ملازمین سنگٹھن کے صوبائی جنرل سکریٹری منیش سین کہتے ہیں کہ ہم حکومت سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں ۔ ہم تو وہی مانگ رہے ہیں جس کا شیوراج سنگھ سرکار نے وعدہ کیا تھا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : محکمہ بجلی کے 45 ہزار آؤٹ سورس ملازمین نے کی ہڑتال ، حکومت نے کی یہ اپیل
مدھیہ پردیش : محکمہ بجلی کے 45 ہزار آؤٹ سورس ملازمین نے کی ہڑتال ، حکومت نے کی یہ اپیل

بھوپال : مدھیہ پردیش میں کورونا قہر کے درمیان شیوراج سنگھ سرکاری کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پہلے جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کو لیکر ہڑتال کی اور حکومت نے کسی طرح سے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال پر قابو پاکر راحت کی سانس بھی نہیں لی تھی ۔ لیکن اب محکمہ بجلی کے پیتالیس ہزار آؤٹ سورس ملازمین نے اپنے آٹھ نکاتی مطالبات کو لیکر ہڑتال شروع کردی ہے۔ ملازمین اپنے مطالبات کو لے کر جہاں ضد پر اڑے ہوئے ہیں وہیں حکومت کورونا قہر میں حقوق کی ادائیگی کی جگہ فرائض کی ادائیگی کا ملازمین کو مشورہ دے رہی ہے ۔


ایسا نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں کورونا قہر کے بیچ سرکاری ملازمین ، کانٹریکٹ ملازمین اور آؤٹ سورس ملازمین نے اچانک ہڑتال شروع کرکے حکومت کے سامنے مشکلات پیدا کی ہوں ، بلکہ انتخابات کے وقت حکومت کے ذریعہ سرکاری ملازمین، کانٹریکٹ ملازمین اور آؤٹ سورس ملازمین سے جو وعدہ کیا گیا تھا ،  حکومت ان وعدوں کو فراموش کر بیٹھی ہے ۔ چار روزقبل جونئیر ڈاکٹروں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال کو حکومت کسی طرح ختم کرنے میں تو کامیاب ہوگئی تھی ، مگر محکمہ بجلی کی آج سے شروع کی گئی ہڑتال اور پندرہ مئی سے محکمہ صحت کے کانٹریکٹ ملازمین کے ذریعہ کئے گئے ہڑتال کے اعلان سے کورونا قہر میں حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔


محکمہ بجلی آؤٹ سورس ملازمین سنگٹھن کے صوبائی جنرل سکریٹری منیش سین  کہتے ہیں کہ ہم حکومت سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں ۔ ہم تو وہی مانگ رہے ہیں جس کا شیوراج سنگھ سرکار نے وعدہ کیا تھا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی کمپنیوں سے ٹھیکداری کی روایت کو ختم کیا جائے ۔ ساتھ ہی بجلی کمپیوں کی نجی کاری پر روک لگانے کے ساتھ کورونا قہر میں کام کرنے والے محکمہ بجلی کے آؤٹ سورس ملازمین کو کورونا جانباز کا درجہ دینے اور ڈیوٹی کے دوران انتقال ہونے پر ان کے اہل خانہ کو کم سے کم بیس لاکھ روپے کی مالی مدد دی جائے ۔


وہیں محکمہ بجلی آؤٹ سورس ملازمین سنگٹھن کے کوآرڈینیٹر راہل مالویہ کہتے ہیں  کہ محکمہ بجلی میں نئے ٹینڈر ہونے کے بعد برسوں سے کام کر رہے آؤٹ سورس ملازمین کو کورونا قہر میں باہر کا راستہ دکھایا جارہا ہے ، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ کورونا قہر میں حکومت سبھی کو علاج کے لئے ایڈوانس رقم جب دے رہی ہے تو محکمہ بجلی کے آؤٹ سورس ملازمین کو کیوں محروم رکھا گیا ہے ۔ محکمہ بجلی کے آؤٹ سورس ملازمین کو محکمہ بجلی میں انضمام کو لیکر ہم نے ہڑتال شروع کی ہے ۔ ریاست میں پینتالیس ہزار ملازمین ہڑتال پر ہیں ۔ ہم نے حکومت کو ایک ہفتہ پہلے آگاہ کردیا تھا ، مگر حکومت نے ہمارے مطالبات پرعمل نہیں کیا ۔ بلکہ ہمیں اپنے فرائض پر عمل کرنے کی نصیحت کی جا رہی ہے ۔ حکومت اپنے فرائض کب پورے کرے گی ، ہم یہ جاننا چاہتے ہیں ۔

ادھر مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ ملازمین کی ہڑتال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہیں ۔ وزیر وشواس سارنگ کا کہنا ہے کہ جونیئر ڈاکٹروں نے بھی ہڑتال کی تھی اور ہم نے انہیں کورونا قہر میں فرائض کی ادائیگی کا مشورہ دیا تھا ، جسے انہوں نے تسلیم کرکے ہڑتال ختم کردی تھی ۔ دوسری تنظیموں کے لوگوں کو بھی یہی مشورہ ہے کہ کورونا کا یہ مشکل وقت ہڑتال کرنے کا نہیں بلکہ اپنے فرائض کو پورا کرنے کا ہے ۔ حکومت بات کر رہی ہے ہمیں امید ہے جلد ہی بہتر نتیجہ نکلے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 10, 2021 11:42 PM IST