உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : بھوپال میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانی طلبہ کے سامنے کھڑے ہوئے مسائل کے پہاڑ

    مدھیہ پردیش : بھوپال میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانی طلبہ کے سامنے کھڑے ہوئے مسائل کے پہاڑ

    مدھیہ پردیش : بھوپال میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانی طلبہ کے سامنے کھڑے ہوئے مسائل کے پہاڑ

    بھوپال کے جن کالجوں میں طلبہ نے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی ہے اب بدلے ہوئے حالات میں وہی کالج طلبہ کو پی جی کورس میں داخلہ دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ داخلہ کے لئے دس دن ہی باقی ہیں اور ابھی تک طلبہ کی اسکالرشپ بھی طے نہیں ہو سکی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : افغانستان میں اقتدار کی منتقلی کیا ہوئی کہ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانی طلبہ کے سامنے مسائل کے انبار کھڑے ہوگئے ہیں ۔ بھوپال کے جن کالجوں میں طلبہ نے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی ہے اب بدلے ہوئے حالات میں وہی کالج طلبہ کو پی جی کورس میں داخلہ دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ داخلہ کے لئے دس دن ہی باقی ہیں اور ابھی تک طلبہ کی اسکالرشپ بھی طے نہیں ہو سکی ہے ۔ اگر ان دس دنوں میں حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے مسائل پر غور نہیں کیا تو افغانی طلبہ اعلی تعلیم میں داخلہ لینے سے محروم ہو جائیں گے۔

    افغانستان میں اقتدار کی منتقلی اثر راجدھانی بھوپال میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانستان کے طلبہ پر نماںاں طور پردیکھا جا رہا ہے ۔ بدلے حالات میں راجدھانی بھوپال میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے افغانستان کے طلبہ کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے ۔ بھوپال میں رہ کر گریجویشن کی تعلیم حاصل کرچکے اب طلبہ کو آگے کی تعلیم کے لئے ملنے والی اسکالرشپ میں روکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے کالجوں میں داخلہ کے لئے دس دن اورباقی ہیں اور اپنے داخلہ کو لیکر یہ طلبہ مدھیہ پردیش حکومت کے سبھی دروازوں پر دستک دے چکے ہیں لیکن کہیں سے بھی انہیں داخلہ اور اسکالرشپ کی راہ  ہموار ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔

    افغانستان کے طالب علم سروش گلستانی کہتے ہیں کہ راجدھانی بھوپال میں ایک درجن سے زیادہ طلبہ آرجی پی وی ، مولانا آزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دوسرے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانستانی طلبہ کے اخراجات حکومت افغانستان اور حکومت ہند کے مشترکہ اشتراک سے ملنے والی اسکالرشپ سے پورے ہوتے تھے۔ سازگار حالات میں ہم سبھی طلبہ نے بھوپال میں رہ گریجویشن کی تعلیم مکمل کی ہے اور اب جبکہ ہم سبھی طلبہ اعلی تعلیم میں داخلہ لینا چاہتے ہیں تو بدلے ہوئے حالات میں ہماری اسکالرشپ کے راستے بند سے ہوگئے ہیں ۔ حکومت ہند کی جانب سے ملنے والی اسکالرشپ کے واضح احکام بھی تعلیمی  اداروں کے پاس نہیں پہنچنے سے تعلیمی ادارے داخلہ دینے سے منع کر رہے ہیں ۔

    افغانستان کے طالب علم فیصل صدیقی نے بتایا کہ تیس اکتوبر تک داخلہ بند ہو جائیں گے ۔ ہمارے پاس پی جی کورس میں داخلہ لینے کے لئے دس دن بھی نہیں بچے ہیں ۔ ہم لوگ داخلہ کے لئے کالجوں میں جاتے ہیں تو وہ ہم سے اسکالرشپ کی پوزیشن کو واضح کرنے کو کہتے ہیں۔ ہم سبھی طلبہ نے نہ جانے کتنے دروازوں پر دستک دی ہے مگر کہیں سے بھی اب تک بات نہیں بنی ہے۔ وزیر اعلی اور وزیر اعلی تعلیم سے بھی بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لیکن ضمنی انتخابات میں ان کی مصروفیت کے سبب ملاقات کی کوئی راہ نہیں نکل پا رہی ہے۔

    بھوپال میں رہ کر حکومت ہند اور افغانستانی حکومت کی مدد سے تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کا اگر داخلہ نہیں ہوپاتا ہے تو ان کے لئے یہاں پر رہنا مشکل ہو جائے گا اور مشکل کی اس گھڑی میں اگر وہ افغانستان بھی جاتے ہیں تو ان کے لئے راہ آسان نہیں ہے۔ کیونکہ بدلے ہوئے حالات میں طالبان حکومت انہیں تسلیم کرے گی یا نہیں اسے لیکر بھی وہ تذبذب میں مبتلا ہیں۔ یہی نہیں بدلے ہوئے حالات میں مالی مشکلات کے سبب ضروریات زندگی کے سبب انہیں کمرے کا کرایہ اداکرنے کے لئے بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔

    افغان طالب علم محمد شفیق کہتے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات میں ہماری امیدوں کا محور حکومت ہند ہے ۔ حکومت ہند نے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں پہلے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہم افغانستانی طلبہ کے مسائل کی جانب سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکالے گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: