ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : ہوشنگ آباد کا نام بدل کرنرمدا پورم کرنے کی نجی قرارداد اسمبلی میں منظور، سماجی تنظیموں نے کی مخالفت

اسمبلی سیشن کے بارہویں دن اسمبلی میں جہاں ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کرنے کو لیکر پرائیویٹ بل پیش کیا گیا اور اتفاق رائے سے پرائیویٹ بل کو منظوردی گئی وہیں ریاست میں لو جہاد کو روکنے کو لیکر حکومت کے ذریعہ پیش کئےگئے بل پر بھی بحث کی گئی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : ہوشنگ آباد کا نام بدل کرنرمدا پورم کرنے کی نجی قرارداد اسمبلی میں منظور، سماجی تنظیموں نے کی مخالفت
مدھیہ پردیش : ہوشنگ آباد کا نام بدل کرنرمدا پورم کرنے کی نجی قرارداد اسمبلی میں منظور، سماجی تنظیموں نے کی مخالفت

مدھیہ پردیش حکومت نے مسلم عہد حکومت میں بسائے گئے شہروں اورتاریخی مقامات کا نام بدلنے کی سمت میں اپنا ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ہے ۔ اسمبلی سیشن کے بارہویں دن اسمبلی میں جہاں ہوشنگ آباد کا نام بدل کر نرمدا پورم کرنے کو لیکر پرائیویٹ بل پیش کیا گیا اور اتفاق رائے سے پرائیویٹ بل کو منظوردی گئی وہیں ریاست میں لو جہاد کو روکنے کو لیکر حکومت کے ذریعہ پیش کئےگئے بل پربحث کی گئی ۔ اسمبلی اسپیکر گریش گوتم نے مذہبی آزادی بل پر بحث کے لئے دیڑھ گھنٹے کا وقت مقرر کیا تھا ۔ تاریخی شہروں کے نام بدلنے اور مذہبی آزادی قانون کو لیکر جہاں حکومت اپنے موقف پر قائم ہے ۔ وہیں سماجی تنظیموں نے حکومت کے موقف پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔


مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ غلامی کی نشانی کو مٹانے کا ایک سنکلپ اسمبلی سے پاس کیا گیا ہے ۔ نرمدا پورم جو ایک تاریخی نام تھا ، اسے سلطان مالوہ کے زمانے میں بدلا گیا تھا۔ آج اسمبلی میں بی جے پی کے سینئر ایم ایل اے سیتاسرن شرما کے ذریعہ پرائیویٹ بل پیش کیا گیا اور ہوشنگ آباد کا نام نرمدا پورم کرنے کی مانگ کی گئی تھی ۔ اسمبلی میں اتفاق رائے سے نجی قرارداد کو منظور کیا گیا ہے۔ اسمبلی کی منظوری کے بعد اب اس تجویز کو مرکزی حکومت کو بھیجا جائے گا اور وہاں سے منظوری ملنے کے بعد اس کا نام نرمدا پورم ہو جائے گا ۔ یہی نہیں اور بھی نام ہیں جو ہندوستان کی پیشانی پر کالا داغ ہیں ، ان کو بھی بدلاجائے گا ۔


وزیر وشواس سارنگ نے مذہبی آزادی قانون کے مدھیہ پردیش میں نفاد کووقت کی ضرورت سے تعبیر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب سے قانون بنایا گیا ہے ، مدھیہ پردیش میں تین درجن سے زیادہ لو جہاد کے معاملات سامنے آچکے ہیں ۔ مذہبی آزادی قانون سے لو جہاد کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی ۔


وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ آئین میں سبھی شہریوں کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کا حق ہے ۔ حکومت کے ذریعہ بنایا گیا موجودہ قانون آئین میں شہریوں کو دئے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت لوجہاد کی بات کرتی ہے ، مگر آج تک اعداد وشمار پیش نہیں کرسکی ہے ۔ یہی نہیں بھوپال میں تقریبا ڈھائی سو سال تک مسلم نوابوں کی حکومت رہی ہے ، مگر مسلم نوابوں نے نام بدلنے کی سیاست کبھی نہیں کی۔ بھوپال کا نام کل بھی بھوپال تھا اور آج بھی بھوپال ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہوشنگ آبادکا سوال ہے ۔ تو سلطان مالوہ ہوشنگ شاہ نے نرمدا ندی کے کنارے اپنے نام سے شہر کو بسایا تھا اور اس زمانے میں نرمدا پورم کے نام سے وہاں کوئی شہر آباد نہیں تھا۔ حکومت کے پاس ہوشنگ شاہ کے ذریعہ نام بدلنے کے کوئی تاریخی حقائق ہوں تو وہ پیش کرے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ در اصل حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے کبھی تبدیلی مذہب کی سیاست کرتی ہے تو کبھی شہروں کا نام بدل کر توجہ ہٹانے کا کام کررہی ہے ۔ حکومت یہ بھول جاتی ہے کہ  میل کے پتھر بدلنے سے وکاس نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے لئے کام کرنا ہوتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 05, 2021 09:11 PM IST