உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

    مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

    مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

    اسمبلی اجلاس پہلے ہی چار روز کے لئے طلب کیا گیا تھا ، جس لے کر کانگریس نے حکومت سے کئی بار اسمبلی سیشن کی مدت میں توسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، مگر حکومت نے اسمبلی سیشن کی مدت میں توسیع کرنا تو دور دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔

    • Share this:
    بھوپال : اب اسے سرکارکی مجبوری کہا جائے یا عوامی مسائل سے راہ فرار ،  مدھیہ پردیش اسمبلی کا اجلاس دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ اسمبلی اجلاس پہلے ہی چار روز کے لئے طلب کیا گیا تھا ، جس لے کر کانگریس نے حکومت سے کئی بار اسمبلی سیشن کی مدت میں توسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، مگر حکومت نے اسمبلی سیشن کی مدت میں توسیع کرنا تو دور دوسرے دن ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔ حالانکہ اس بیچ اپوزیشن کے سخت تیور اور ہنگاموں کے بیچ حکومت نے چارہزارپانچ سو ستاسی کروڑ کے سپلیمنٹری بجٹ کے ساتھ سات بل کو بغیر کسی بحـث کے منظور کرلیا۔ حکومت کے ذریعہ ریاست میں شراب کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا بل بھی منظور کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایم پی اسمبلی مانسون سیشن  کا پہلا دن بھی ہنگاموں کی نذر ہوگیا تھا۔ پہلے دن بھی آدیواسی اور اوبی سی کے مسائل کو لے کر اپوزیشن ہنگامہ کرتا رہا اور ہنگاموں کے بیچ ہی مرحوم ممبران اسمبلی کو خراج عقیدت پیش کی گئی تھی ۔ اسمبلی سیشن کے دوسرے دن بھی کانگریس کارکنان نے ستائیس فیصد اوبی سی ریزرویشن کے مطالبہ کو لے کر اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور ایپرن پہن کر اسمبلی کے باہر گاندھی جی کے مجسمے کے پاس نعرے بازی کی ۔

    مدھیہ پردیش پی سی سی چیف و لیڈر آف اپوزیشن کمل ناتھ کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کو لئے عوامی مسائل پر بحث کرانے سے گھبرا رہی تھی ، اس لئے اس نے دوسرے دن ہی اسمبلی سیشن کو غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ کانگریس چاہتی تھی کہ اسمبلی میں ستائیس فیصد ریزرویشن ، دلت اور آدیواسیوں پر ہو رہے مظالم، خواتین عصمت دری، کورونا قہر میں آکسیجن کی قلت، ریمڈیسور انجیکشن کی کالا بازاری ، سیلاب متاثرین کو راحت دینے ، مہنگائی اور پیٹرول وڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے معاملے میں حکومت کی ناکامی پر بحث ہو ۔  اپوزیشن پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپوزیشن اسمبلی اجلاس کے چلنے میں مدد نہیں کر رہا ہے لیکن حکومت خود اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حکومت دبانے اور چھپانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے ، جسے لیکر کانگریس عوام کی عدالت میں جائے گی اور عوام ان کے پاکھنڈ کا بھر پور جواب دیں گے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ اور وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹرنروتم مشرا نے کانگریس کے الزام پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیشن کو کب تک چلانا ہے اور کیسے چلانا چاہئے وہ انکا اختیار ہے ۔ اسمبلی اسپیکر نے جو فیصلہ کیا ہے وہ پارلیمانی روایت کے مطابق ہے ۔ کانگریس خود نہیں چاہتی تھی کہ اسمبلی میں کسی موضوع پر بحث ہے۔ بی جے پی تو سڑک سے سنسد تک ہر جگہ بحث کرنے کیلئے تیار ہے ۔ در اصل کانگریس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے اس لئے وہ بار بار عوام کو گمراہ کرنے کا موقع تلاش کرتی ہے ۔ مہنگائی، پیٹرول وڈیزل کی بات کمل ناتھ جی کس منھ سے کریں گے۔ انہوں نے اپنے مینی فیسٹو میں پٹرول و ڈیزل پر ٹیکس کرنے کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے اپنی حکومت میں خود ٹیکس میں اضافہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیلاب کی بات ہے تو حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے اور ٹاسک فورس کی میٹنگ میں وزیر اعلی نے راحت و بازآباد کاری کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اس کیلئے سات سو دس کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: