உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والے مدارس کے خلاف ہوگی کارروائی

    Madhya Pradesh: ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والے مدارس کے خلاف ہوگی کارروائی

    Madhya Pradesh: ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والے مدارس کے خلاف ہوگی کارروائی

    Bhopal News: مدھیہ پردیش میں مدارس کو لے کر سرکاری اور مسلم تنظیموں کے بیچ ٹکراؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ یہ ٹکراؤ اس وقت اور بڑھ گیا جب وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے صوبہ میں ضابطہ کے خلاف چلنے والے مدارس کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کو لے کر بیان دیا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Indore | Jabalpur
    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش میں مدارس کو لے کر سرکاری اور مسلم تنظیموں کے بیچ ٹکراؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ یہ ٹکراؤ اس وقت اور بڑھ گیا جب وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے صوبہ میں ضابطہ کے خلاف چلنے والے مدارس کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کو لے کر بیان دیا ۔ وہیں مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وزیر ثقافت اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے مدارس کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں ۔ اگر دو اور تین کمرے میں چلنے والے مدارس  ضابطہ کی خلاف ورزی ہیں تو دو اور تین کمرے میں چلنے والے اسکول بھی وہی خلاف ورزی کر رہے ہیں ، حکومت کی ایسے اسکولوں کے خلاف خاموشی معنی خیز ہے ۔ گزشتہ چھ سالوں سے مدرسہ بورڈ سے وابستہ اساتذہ کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں، اوشا ٹھاکر کو کبھی یہ دکھائی نہیں دیتا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بھوپال ڈی بی مال میں نماز پڑھنے کو لے کر شروع ہوا تنازع، جانئے کیا ہے پورا معاملہ


    مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے نیوز18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بال کلیان سمتی نے کچھ مدارس کی اچانک جانچ کی تو پتہ چلا کہ ایسے مدارس بھی ہیں، جن کا مدرسہ بورڈ اور محکمہ تعلیم سے کوئی رجسٹریشن نہیں ہے وہ چل رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی مدارس چل رہے تھے جہاں چھوٹے چھوٹے کمرے میں چالیس چالیس بچے پڑھ رہے تھے ،بچے وہی پڑھ بھی رہے تھے اور وہیں سوتے بھی ہیں جو کہ ضابطہ کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ بچے بہار کے تھے، انہیں دیکھ کر تشویش ہوئی کہ کہیں یہ بچے خرید و فروحت کا حصہ تو نہیں ہیں، اس لئے احکام جاری کیا کہ کوئی بھی وہ مدرسہ جس کا مدرسہ بورڈ اور محکمہ تعلیم سے رجسٹریشن نہیں ہے ایسے غیر قانونی مدرسے انہیں فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم مودی نے کیا سابرمتی ندی پر بنے اٹل پل کا افتتاح، جانئے اس کی خاص باتیں


    وہیں وزیر ثقافت کے بیان پر مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر قاضی عظمت شاہ مکی نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ علما بورڈ ایم پی کے صدر قاضی عظمت شاہ مکی کا کہنا ہے کہ وزیر ثقافت دو اور تین کمروں میں چلنے والے مدارس کو ضابطہ کی خلاف ورزی بتا رہی ہیں لیکن اسی مدھیہ پردیش میں ایسے اسکولوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو دو سے تین کمرے میں چلتے ہیں اور وہاں پر نہ تو پلے گراؤنڈ ہیں اور نہ ہی پانی اور ٹوائلٹ کا معقول انتظام ہے ۔ حکومت کو ان کے خلاف بھی کاروائی کرنا چاہئے۔ مدارس پر انسانوں کی خرید و فروحت کا الزام لگانا افسوسناک ہے ۔ حکومت بتائے اب تک کن مدارس میں بچوں کی خرید و فروخت پائی گئی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ در اصل وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر اپنی سیاست کو چمکانے اور ایک خاص طبقہ کے نظریہ  تعلیم کو ٹارگیٹ کرنے کے لئے ایسے بیان دیتی ہیں ۔ وزیر کی من مانی کے خلاف حکومت میں شکایت بھی کی جائے گی اور اس کے خلاف تحریک بھی چلائی جائے گی ۔ یہ سب ڈرامہ اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلم بچے پڑھ نہ سکیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: