உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    AMU کی پہلی خاتون چانسلر و بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کو کیا گیا فراموش

    AMU کی پہلی خاتون چانسلر و بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کو کیا گیا فراموش

    AMU کی پہلی خاتون چانسلر و بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کو کیا گیا فراموش

    نواب سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر رہی ہیں ، لیکن افسوس کہ ان کی برسی کے موقعہ پر بھوپال میں ہی انہیں فراموش کردیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : ریاست بھوپال کے عہدزریں کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو بیگمات بھوپال کے عہد کو یاد کیاجاتا ہے ۔ ریاست بھوپال پر نواب قدسیہ بیگم، نواب سکندر جہاں بیگم، نواب شاہجہاں بیگم اور نواب سلطان جہاں کی حکومت کی رہی ہے لیکن تعلیم نسواں کے فروغ اور دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کےفروغ میں نواب سلطان جہاں بیگم نے جو کارنامے انجام دئے وہ بے مثل ہیں ۔ نواب سلطان جہاں بیگم ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر رہی ہیں ، لیکن افسوس کہ ان کی برسی کے موقعہ پر بھوپال میں ہی انہیں فراموش کردیا گیا۔ بینظیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعہ نواب سلطان جہاں کی برسی کے موقعہ پر مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا اور بھوپال صوفیا مسجد میں واقع ان کی قبرپر جاکر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

    بینظیر انصاری ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر و سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے ہیرو کو بڑھ چڑھ کر یاد کرتی ہیں، لیکن افسوس کہ جس خاتون نے بھوپال کی ہمہ جہت ترقی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فروغ میں ہر طرح سے قربانی دی، جس نے ادب میں برا کارنامہ انجام دیا اسے بھوپال اور علی گڑھ دونوں جگہوں پر فراموش کردیا گیا ۔ ہم نے بھی مختصر پروگرام کا انعقاد کیا ہے لیکن یہ ان کے کارناموں کے شایان شان نہیں ہے ۔ اس لئے اس کی تلافی کے لئے ہم ان کی یوم ولادت یعنی نو جولائی کو قومی سمینار کا انعقاد کریں گے، تاکہ تعلیمی نسواں کے فروغ میں نوا ب سلطان جہاں بیگم کے حوالے سے تفصیل سے بات ہوسکے اور نئی نسل ان کے کارناموں سے سیر حاصل واقفیت حاصل کرسکے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  کشمیری پنڈت افسر پر دہشت گردوں نے کیا حملہ، تحصیلدار آفس میں گھس کر ماری گولی


    ممتاز ادیب پروفیسر نعمان خان نے نیوز18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بیگمات بھوپال کی خدمات بہت ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہیں ۔ سلطان جہاں بیگم بہت دور اندیش اور اعلی تعلیم یافتہ تھیں۔ وہ جتنا مشرقی تھیں اتنا ہی مغربی اصولوں کو بھی پسند کرتی تھیں ۔ چنانچہ انہوں نے تعلیم کے معاملے میں مشرق و مغرب کے درمیان ایک توازن پیدا کیا ۔ ان کی تالیف اور تصنیف کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے۔ انہوں نے نصاب بھی ترتیب دیا۔ انہوں نے کئی اسکول کھولے ۔ خاص طور پر وہ تعلیم نسواں کی بہت بڑی مبلغ ہیں ۔ انہوں نے تعلیم نسواں کے تعلق سے جو بھی کام کیا چاہے وہ علی گڑھ میں ہو یا بھوپال میں ۔ علی گڑھ میں عبد اللہ کالج تو بن گیا تھا مگر انہوں نے سلطانیہ اسکول، سلطان جہاں منزل کے قیام کے ساتھ اپنے صاحبزادوں کے نام سے ہوسٹل قائم کئے وہ اہم ہیں۔

    اس کے علاوہ انہوں نے علی گڑھ کو انہوں نے جو مالی تعاون کیا اور دوسروں سے بھی مالی تعاون کروایا وہ بے مثل ہے ۔ آغٓا خان نہیں دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ دینا پڑے گا۔ نظام نہیں دے رہے تھے ، انہوں نے کہاکہ دینا پڑے گا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے سب سے پہلے ایک لاکھ خود دیا پھر دوسروں سے دلوایا ۔ بھوپال میں خواتین کے لئے لیڈیز کلب بنوایا۔ انہوں نے نہ جانے کتنے ادیبوں کو بھوپال بلا کر انہیں وظائف اور اعلی مناصب  پر متعین کیا  اور ان سے پروجیکٹ وائز کام کروایا۔ دفتر تحقیق قائم کیا اور موضوعات دے دیکر ادیبوں سے کتابیں لکھوائیں ۔سیرۃ النبی کا معاملہ سب کو معلوم ہے کہ انہوں نے اس کے لئے کیا کیا۔ انہوں نے پوری زندگی ادب، تہذیب و ثقافت اور تعلیم کے میدان میں جو کام کیا ہے اسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : Hajj 2022 میں عازمین کو 20Kg کے دو سوٹ کیس اور 7Kg کے کیری بیگ کی اجازت


    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن بھوپال کے صدر قاضی اقبال نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم شخصیت جس نے اپنے کارنامے سے بھوپال کا نام عالمی سطح پر روشن کیا ، اسی کی برسی پر چند لوگ قبر پر فاتحہ پڑھنے جمع ہوئے ہیں ۔ اہل بھوپال کو اعلی سطح پر پروگرام کا انعقاد کرنا چاہئے تھا، لیکن اب نو جولائی جو ان کی یوم ولادت ہے، اس موقعہ پر ہم قومی سمینار کا انعقاد کریں گے، تاکہ سلطان جہاں بیگم کی خدمات کو نئی نسل تک پہنچا سکیں اور آج ہم لوگوں سے کوتاہی ہوئی ہے، اس کی تلافی ہوسکے ۔

    واضح رہے کہ نواب سلطان جہاں بیگم کی ولادت نو جولائی اٹھارہ سو اٹھاون کو بھوپال میں ہوئی تھی اور جب انہوں نے بارہ مئی انیس سو تیس کو اپنی زندگی کا سفر تمام کیا تو انہیں بھوپال صوفیا مسجد کے احاطہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہیں کے برابر میں ان کے فرزند بھوپال کے آخری فرمانروا نواب حمید اللہ خان کا مدفن ہے ۔ بینطیر انصار ایجوکیشن سوسائٹی اور اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے سلطان جہاں کی یوم ولادت پر قومی سمینار کے انعقاد کا اعلان تو کیا ہے، لیکن اس اعلان پر کتنا عمل ہوتا ہے یہ دیکھنا ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: