ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : ارمیلا مشرا کے بیٹوں نے کیا انکار تو انور پٹھان کی ٹیم نے ادا کیا انسانیت کا فرض ، ہر طرف ہورہی تعریف

ارمیلا مشرا کا تعلق بھوپال کے پنچ شیل نگر سے تھا ۔ ارمیلا مشرا بھوپال کے مشہور سرجن ڈاکٹر آئی پی مشرا کی اہلیہ تھیں ۔ ارمیلا مشرا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : ارمیلا مشرا کے بیٹوں نے کیا انکار تو انور پٹھان کی ٹیم نے ادا کیا انسانیت کا فرض ، ہر طرف ہورہی تعریف
مدھیہ پردیش : ارمیلا مشرا کے بیٹوں نے کیا انکار تو انور پٹھان کی ٹیم نے ادا کیا انسانیت کا فرض ، ہر طرف ہورہی تعریف

بھوپال : کورونا قہر میں صرف انسانی معمولات ہی تبدیل نہیں ہوئے ہیں ، بلکہ قدریں اتنی پامال ہوگئی ہیں کہ ان کا بیان بھی تصورسےباہر ہے ۔ کورونا قہر میں نہ صرف لوگ اپنوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ بوڑھے ماں باپ کی بیماری اور آخری رسومات کو بھی ادا کرنے سے انکار کرنے لگے ہیں ۔ بھوپال پنچ شیل نگر میں رہنے والی ارمیلا مشرا بھی خود کفیل گھرانہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے اپنوں کی محبت سے محروم رہیں ۔ اپنوں نے نہ صرف علاج سے انکار کیا بلکہ آخری رسومات کو بھی ادا کرنے سے انکار کردیا ۔ جب اپنوں نے انکار کیا تو غیروں نے مثالی خدمت پیش کرتے ہوئے انسانیت کو مجروح ہونے سے بچا لیا۔


ارمیلا مشرا کا تعلق بھوپال کے پنچ شیل نگر سے تھا ۔ ارمیلا مشرا بھوپال کے مشہور سرجن ڈاکٹر آئی پی مشرا کی اہلیہ تھیں ۔ ارمیلا مشرا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ بڑا بیٹا دہلی میں بڑے عہدے پر فائز ہے ، تو دوسرا بیٹا بھوپال کے کولار میں رہتا تھا اور تیسرا بیٹا جو ذہنی طور پر معذور ہے وہ ماں کے ساتھ رہتا تھا ۔ ارمیلا مشرا کی بیٹی جبلپور میں رہتی ہے ۔ ارمیلا مشرا کے شوہرآئی پی مشرا کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے ۔ ضروریات زندگی کیلئے ارمیلا مشرا کے دو بیٹے اور بیٹی ضرور تھے ، مگر ارمیلا مشرا کو یقین تھا کہ جب ان پر مشکل وقت آئے گا تو ان کے بیٹے اور بیٹی ان کا سہارا بنیں گے ۔ مگر کورونا قہر میں علاج تو دور  بیمار ارمیلا مشرا کی صورت دیکھنے کو بھی بچے راضی نہیں ہوئے ۔


ارمیلا مشرا تین دن تک اپنوں کی بے حسی کے سبب گھر میں بیمار پڑی رہیں ۔ ذہنی طور پر معذور بیٹا بھی ماں کے درد کو سمجھنے سے قاصر رہا ۔ تین دن بعد جب پڑویسوں نے ارمیلا مشرا کی بیماری کی خبر سماجی کارکن انور پٹھان کو دی ۔ تو انورپٹھان اپنی پوری ٹیم کے ساتھ فورا ارمیلا مشرا کے گھر روانہ ہوئے ۔ ان کے فوری علاج کے لئے انہیں ایمبولنس سے اسپتال سے پہنچایا ۔ اسپتال میں ارمیلا مشرا کا علاج بھی شروع ہوا ، مگر ارمیلا مشرا کی موت ہوگئی ۔ ارمیلا مشرا کے  بیٹے اور بیٹی علاج میں تو نہیں آئے مگر انور پٹھان کو یہ امید تھی کہ شاید ماں کے آخری دیدار اور آخری رسومات کو ادا کرنے کے لئے بیٹے اور بیٹی آجائیں گے ، مگر بار بار رابطہ کرنے کے بعد انہوں نے آخری رسومات کو ادا کرنے سے بھی انکار کردیا ۔


سماجی کارکن انور پٹھان کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں زندگی کیسے رنگ بدلتی ہے اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ ارمیلا مشرا کی بیماری کی خبر پر ہم نے عمر اسلم ، فہیم اور شاہویز سکندر کے ساتھ مل کر پہلے انہیں ایمبولنس سے اسپتال پہنچایا اور ان کے بیٹوں اور بیٹی کو فون کیا ۔ ہمیں امید تھی کہ ماں کی خبر سن کر پتھر دل انسان بھی پگھل جائے گا ، لیکن وہ لوگ نہ ان کے علاج کیلئے آگے آئے اور نہ ان کی آخری رسومات کو ادا کرنے کو تیار ہوئے ۔ ہم نے ان کا علاج کروایا اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوئی ، تو ان کی آخری رسومات کو ادا کرکے انسانیت کا فرض ادا کیا ۔ زندگی ایسا برتاؤ کسی کے ساتھ نہ کرے جو ہم نے دیکھا ہے ۔

وہیں سماجی کارکن شاہویز سکندر کہتے ہیں کہ ارمیلا مشرا کے سانحہ دل کو جھنجھوڑ دینے والا ہے ۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ بیمار ماں تین دن تک گھر میں پڑی رہی اور بیٹے دیکھنے تک نہیں آئے اور جب دنیا سے رخصت ہوئی تو بھی آنے سے انکار کردیا ۔ دنیا میں جو بھی آیا ہے ، اسے ایک نہ ایک دن جانا ہے ، مگر اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک ۔۔۔۔ بیان کرتے ہوئے زبان لرزنے لگتی ہے ۔ ہم نے صرف انسانیت کا فرض ادا کیاہے ۔

انہوں نے بتایا کہ آخری رسومات کو ادا کرنے کیلئے ہم نے ایک پنڈٹ جی سے بات کی تو انہوں نے ہماری بہت مدد کی ۔ اگر حقیقی ماں کے بیٹے اپنا فرض نہیں ادا کر رہے ، تو کیا ہوا پڑوسی ماں کے بیٹے تو موجود ہیں اور اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 10, 2021 11:07 PM IST