ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں بھوپال کی سماجی تنظیم نے عید راشن اور کپڑے کئے تقسیم

راجدھانی بھوپال کی سماجی تنظیموں نے اپنی امداد کے دروازے ضرورت مندوں کے لئے کھول دئے ہیں ۔اسپتال میں أکسیجن اور دوا پہنچانے کی بات ہو یا پھر ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کا سوال ، بہت سی تنظیمیں اس کام کو بحسن خوبی انجام دے رہی ہیں ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں بھوپال کی سماجی تنظیم نے عید راشن اور کپڑے کئے تقسیم
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں بھوپال کی سماجی تنظیم نے عید راشن اور کپڑے کئے تقسیم

بھوپال : کورونا قہر میں سبھی شہروں میں عید کی رونقیں معدوم ہوگئیں ہیں ۔ کورونا قہر ایسا ہے کہ زندگی کے رنگ بھی بدل گئے ہیں ۔ مشکل وقت میں جہاں دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے مل رہی ہو ایسے میں خوشیوں کو منانے کا تصور بھی نہیں کیا جاستا ہے ۔مگر بھوپال کی سماجی تنظیم نے ضرورتمندوں میں عید راشن اور بچوں میں نئے کپڑے تقسیم کر کے عید کے موقع پر ان کی خوشیوں کا رنگ دوبالا کردیا ہے ۔


ماہ رمضان کی آمد آمد کے ذکر سے ہی جہاں شہروں کے بازار سج کر تیار ہو جاتے تھے ۔ وہیں گزشتہ سال سے کورونا کی وبا کےسبب رونق بازارہی نہیں سبھی خوشیوں پر گہن لگ گیا ہے ۔ کورونا قہر میں نہ کہیں رمضان بازار دکھائی دیا اور اور نہ ہی عید بازار۔ سڑکوں پر ویرانی اور بازاروں میں اداسیوں کا ہر جگہ ماتم ہے ۔ ذکر ہے ہر جگہ تو بس کورونا کا اور اس سے نجات پانے کے طریقوں کا۔ کورونا قہر نے زندگی کو ایسا بد رنگ کردیا ہے کہ کیا امیر کیا غریب سبھی پریشان ہیں ۔ امیر کی زندگی محدود طریقے سے گزر رہی ہے تو غریب کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل ہوگئی ہے ۔


ایسے میں راجدھانی بھوپال کی سماجی تنظیموں نے اپنی امداد کے دروازے ضرورت مندوں کے لئے کھول دئے ہیں ۔اسپتال میں أکسیجن اور دوا پہنچانے کی بات ہو یا پھر ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کا سوال ، بہت سی تنظیمیں اس کام کو بحسن خوبی انجام دے رہی ہیں ۔ مگر مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل ویلفیئر سوسائٹی نے اپنی راحت کے دروازے کو دو قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے اب عید راشن اور کپڑوں کی تقسیم شروع کردی ہے۔


مولانا برکت اللہ بھوپالی سوشل ویلفیئر سو سائٹی ضلع بھوپال کے صدر محمد عمران کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں ضروتمندوں کو اسپتالوں میں آکسیجن پہنچانے،دوا مہیا کرانے اور کھانہ تقسیم کرنے کا تو پہلے سے جاری ہے مگر جب سو سائٹی نے دیکھا کہ کورونا قہر میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس اب فاقہ کے سوا کچھ نہیں ہے تو ہم نے ایسے لوگوں کا خاموش طریقے سے سروے کیا اور بلا لحاظ قوم وملت سبھی میں ہم نے راشن تقسیم کئے ۔ راشن تقسیم کرنے کا کام جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا۔

اسی طرح بہت سے لوگوں کے پاس عید کے موقع پر بنانے کے لئے کچھ نہیں تھا اور جب ان کے گھر کے بچے پڑوسیوں کے بچے کے نئے کپڑے دیکھتے تو وہ اپنوں گھروں میں نیا کپڑے بنانے کو لیکر جھگڑا کرتے۔ غریب ماں باپ جو دو وقت کی روٹی کا کورونا قہر میں انتظام نہیں کر پا رہے ہیں وہ نئے کپڑے کہاں سے بنوائیں گے ۔سو سائٹی نے غریب بستیوں میں جاکر بچوں اور بچیوں کو نئے کپڑے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس وبائی بیماری میں اللہ ہم سے خدمات کا کام لے رہا ہے ۔

وہیں  گاندھی نگری کی شاہین کہتی ہیں کہ کورونا کی وبا میں ہمارے گھر عید پر کچھ بنے گا یا بچے بھوکے سوئیں گے ، ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا ۔ اللہ بڑا ساز گار ہے اس نے ہمارے گھر عید کا راشن بھی بھیجوا دیا اور بچوں کے نئے کپڑے بھی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ انہیں سلامت رکھیں ۔ تاکہ غریبوں کے گھروں میں بھی خوشیوں کے چراغ جلتے رہیں ۔

وہیں کودھ علاقہ کے نور محمد کہتے ہیں کہ کورونا قہر جب سے آیا ہے ہم مزدور کبھی دو وقت کی روٹی ٹھیک سے نہیں کھا سکے ہیں ۔ آج پہلی بار اتنا راشن آیا ہے کہ ہم مہینے بھر سکون سے کھاسکیں گے اور ہم مزدور کے بچے بھی عید پر نئے کھڑے پہن سکیں گے۔ آگے بولنے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔ اگر آپ آنسوؤں کی زبان سمجھتے ہیں تو یہ خوشی کے آنسو آپ کو بتا دیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 12, 2021 06:21 PM IST