உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP News: بی جے پی ترنگا بیچ رہی ہے اور ہم مفت تقسیم کر رہے ہیں : عارف مسعود

    MP News: بی جے پی ترنگا بیچ رہی ہے اور ہم مفت تقسیم کر رہے ہیں : عارف مسعود

    MP News: بی جے پی ترنگا بیچ رہی ہے اور ہم مفت تقسیم کر رہے ہیں : عارف مسعود

    Bhopal News: آزادی کا امرت مہوتسو کے موقع پر گھر گھر ترنگا لگانے کو لیکر جہاں عوام کا جوش دیکھتے بنتا ہے تو وہیں سیاسی پارٹیاں ایسے موقعہ پر بھی سیاست کی بازی کو کھیلنے سے نہیں چوکتی ہیں ۔

    • Share this:
    بھوپال : آزادی کا امرت مہوتسو کے موقع پر گھر گھر ترنگا لگانے کو لیکر جہاں عوام کا جوش دیکھتے بنتا ہے تو وہیں سیاسی پارٹیاں ایسے موقعہ پر بھی سیاست کی بازی کو کھیلنے سے نہیں چوکتی ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں بھی گھر گھر ترنگا مہم جوش و عقیدت کے ساتھ چل رہی ہے لیکن بی جے پی کے ذریعہ ترنگا فروخت کرنے اور کانگریس کے ذریعہ تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ خون پسینے کی محنت کی کمائی سے ترنگا لگانے کی بات کی جا رہی ہے تو وہیں کانگریس کے ذریعہ مفت ترنگا تقسیم کرنے کے ساتھ اپنی اپنی پسند کے مجاہدین آزادی کی تصویر کو بھی تقسیم کرنے کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: سری نگر میں دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسیز پر پھینکا گرینیڈ، ایک جوان زخمی


    بی جے پی میڈیا سیل کے انچارج لوکیندر پراشر نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کا امرت مہوتسو پوا دیش منا رہا ہے ۔ گھر گھر ترنگا لگایا جا رہا ہے ۔ عوام کے ذریعہ ، سبھی سماج کے ذریعہ اپنی خون پسینے کی کمائی سے اپنے ملک کی آن بان شان ترنگا کو لگایا رہا ہے۔ کانگریس کو ہر بات میں تنقید کی عادت پڑ گئی ہے ۔ وہ مفت خور عوام کو بنانا چاہتی ہے ۔ ملک کی آن بان اور شان کو جس طرح سے وزیر اعظم نریند رمودی نے دنیا میں پہنچایا ہے وہ کانگریس کے لوگوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا ہے ۔ یہی رہا توجلد ہی کاغذ کے پنوں تک سمٹ جائے گی یہ پارٹی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: یوکری جنگ کی مخالفت کرنے والی روس کی جرنلسٹ نظربند، ہو سکتی ہے 10 سال کی سزا


    وہیں بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود سے جب نیوز 18 اردو نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بہت کچھ بیچنے والے ترنگا بیچنے کا بھی کام کریں گے یہ امید نہیں تھی۔ ہم نے اپنے اسمبلی حلقہ میں پرانے بھوپال اور نئے بھوپال میں ترنگا کے ساتھ مجاہدین آزادی تصاویر رکھوا دی ہے، جس کو جتنا چاہئے لے جائے اور ترنگا کے عظمت کو سامنے رکھ کر گھر گھر میں ترنگا بھی لگائے اور اپنی اپنی پسند کے مجاہدین آزادی کی تصاویر بھی گھر میں لگائیں۔

    تحریک آزادی میں سبھی لوگوں نے اپنا لہو دیا ہے لیکن جو لوگ آج ترنگے کی بات کررہے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے آقا کے یہاں ساٹھ باسٹھ سال تک ترنگا کیوں نہیں لگایا گیا۔ ہمارے بزرگوں نے اس وقت ترنگا اٹھایا تھا جب ترنگا لہرانے پر گولی ماردی جاتی تھی اور یہ لوگ آزاد ملک میں ترنگا بیچنے کا کام کر رہے ہیں، افسوسنا ک ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: