உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پانچ سال پہلے ملاقات ، ڈھائی ماہ پہلے لو میرج ، اب کلہاڑی سے بیوی کے کاٹ ڈالے دونوں ہاتھ ، وجہ جان کر اڑجائیں گے ہوش

    پانچ سال پہلے ملاقات ، ڈھائی ماہ پہلے لو میرج ، اب کلہاڑی سے بیوی کے کاٹ ڈالے دونوں ہاتھ ، وجہ جان کر اڑجائیں گے ہوش ۔ علامتی تصویر ۔

    پانچ سال پہلے ملاقات ، ڈھائی ماہ پہلے لو میرج ، اب کلہاڑی سے بیوی کے کاٹ ڈالے دونوں ہاتھ ، وجہ جان کر اڑجائیں گے ہوش ۔ علامتی تصویر ۔

    شوہر کو ڈھائی مہینے کی لو میرج کے بعد ہی بیوی کے کردار پر شک ہونے لگا ۔ اس نے اس سے بات بھی کی ۔ بیوی نے شوہر کو کافی سمجھایا ، لیکن وہ نہیں مانا ۔ پھر ایک دن اس نے سازش رچی اور بیوی کے ہاتھ کلہاڑی سے کاٹ دئے ۔

    • Share this:
      بھوپال : ڈھائی مہینے کی لومیرج کے بعد ہی شوہر کو بیوی کے کردار پر شک ہوگیا ۔ اس نے جنون میں آکر بیوی کے دونوں ہاتھ کاٹ دئے ۔ بیوی کا بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں علاج چل رہا ہے ۔ ملزم شوہر فی الحال فرار ہے ۔ جانکاری کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے ہاتھ جوڑے دئے ہیں ، لیکن فی الحال ہاتھ کام نہیں کررہے ہیں ۔

      جانکاری کے مطابق انیتا اور رندھیر ساگر کے رہنے والے ہیں ۔ تقریبا ڈھائی مہینے پہلے آٹھ جنوری کو دونوں کی کورٹ میرج ہوئی تھی ۔ پانچ سالوں کی ملاقات کے بعد دونوں نے شادی کی تھی ۔ انیتا نے بتایا کہ شادی کرنے کے بعد 15 دنوں تک تو رندھیر نے اس سے اچھی طریقہ سے بات چیت کی ، لیکن پھر اچانک شک کرنے لگا ۔ شوہر بیوی سے کہنے لگا کہ وہ کسی اور سے بات کرتی ہے جبکہ بیوی بار بار اس سے کہتی رہی کہ میں نے آپ سے لو میرج کی ہے ۔

      انیتا نے بتایا کہ پیر کو رات جب سب لوگ کھانا کھاکر سوگئے تو رندھیر نے اس سے کہا کہ جنگل چلو لکڑیاں لے کر آتے ہیں ۔ انیتا نے کہا کہ صبح چلیں گے تو اس نے کہا کہ لکڑیاں کٹی پڑی ہیں ، صرف اٹھاکر لانا ہے ۔ دونوں گھر سے نکل گئے ۔ گاوں سے ندی کے پل کے آگے جاکر ملزم نے بیوی سے پوچھا کہ کہاں سے کاٹیں تو بیوی نے کہا کہ اوپر سے ۔ اتنا سنتے ہی ملزم نے پیڑ کی جگہ انیتا پر کلہاڑی سے وار کرنا شروع کردیا ۔

      انیتا نے بتایا کہ میرے دونوں ہاتھ خون سے لت پت ہوگئے اور میں زمین پر گرپڑی ۔ اس کے بعد رندھیر چلا گیا ۔ میں نے اس درمیان سڑک سے نکلتی کاروں اور ٹرکوں کو روکنے کی کوشش کی ، لیکن انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ۔ رندھیر مجھے دیکھ کر دوبارہ میری طرف آیا ۔ میں بیہوش ہونے کا ناٹک کرکے زمین پر گڑ گئی ۔ اس کے بعد وہ لوٹ گیا اور ایک ٹرک میں بیٹھ کر چلا گیا ۔ میں پہلی مرتبہ جنگل گئی تھی ۔ جیسے تیسے اسی راستے سے اپنے سسرال پہنچی اور اہل خانہ کو واقعہ کے بارے میں بتایا ۔

      اس کے سسر نارائن سنگھ اس کو ساگر سے لے کر بھوپال کے حمیدیہ اسپتال آگئے ۔ وہ ہی اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے تین لڑکے تھے ۔ اب تیسرا مرگیا ۔ میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: