உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bhopal News : سماج کے پسماندہ طبقات اور کورونا قہر میں سرپرستوں سے محروم بچوں کو تعلیم کیلئے دئے گئے چیک

    Bhopal News : سماج کے پسماندہ طبقات اور کورونا قہر میں سرپرستوں سے محروم بچوں کو تعلیم کیلئے دئے گئے چیک

    Bhopal News : سماج کے پسماندہ طبقات اور کورونا قہر میں سرپرستوں سے محروم بچوں کو تعلیم کیلئے دئے گئے چیک

    سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر ظفر حسن کہتے ہیں کہ یوں تو سوسائٹی کے ذریعہ انیس سو پچاسی سے کام کیا جا رہا ہے ، لیکن گزشتہ دوسالوں سے یعنی جب سے کورونا کی وبا آئی ہے ، ہمارے چیلنج بڑھ گئے ہیں ۔ سماج کے ہونہار طلبہ کو میرٹ اسکالرشپ فراہم کرنے کے ساتھ غریب و نادار طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا تو ہماری ذمہ داری میں شامل ہی ہے ، اب کورونا میں اپنے سرپرستوں سے محروم بچوں کی تعلیمی ذمہ داری بھی ہمارے فرائض میں شامل ہوگئی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال : دنیا کی سبھی دولت تقسیم کرنے سے کم ہوتی ہے ، لیکن تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو تقسیم کرنے سے کبھی کم نہیں ہوتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ جس قوم نے خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا ، دنیا نے اسی کے سامنے اپنا سرخم کردیا ہے۔ آپ کے خواب کی تکمیل تعلیم سے ہی ممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار بھوپال (Bhopal) میں مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی (Muslim Education and Career Promotion Society) کے زیر اہتمام منعقدہ کیریئر گائیڈنس کیمپ میں ماہرین تعلیم کیا۔

    واضح رہے کہ راجدھانی بھوپال میں انیس سو پچاسی میں اقلیتی طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی غرض صغیر بیدار نے اپنے قند رفقا کے ساتھ مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی کو قائم کیا تھا۔ گزشتہ تین دہائیوں میں ادارے نے تعلیمی بیداری اور مسلم طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم میں اہم کارنامہ انجام دیا ہے ۔ کورونا قہر میں جب شہر کے بہت سے بچے اپنے والدین کی سرپرستی سے محروم ہوگئے اور حکومت کے وعدے کے بعد بھی انہیں تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کا موقع نہیں مل سکا تو بھوپال کی فعال تنظیم مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی نے ایسے بچوں کا تعلیمی سلسلہ فراہم کرنے کا قدم اٹھایا۔

    سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر ظفر حسن کہتے ہیں کہ یوں تو سوسائٹی کے ذریعہ انیس سو پچاسی سے کام کیا جا رہا ہے ، لیکن گزشتہ دوسالوں سے یعنی جب سے کورونا کی وبا آئی ہے ، ہمارے چیلنج بڑھ گئے ہیں ۔ سماج کے ہونہار طلبہ کو میرٹ اسکالرشپ فراہم کرنے کے ساتھ غریب و نادار طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا تو ہماری ذمہ داری میں شامل ہی ہے ، اب کورونا میں اپنے سرپرستوں سے محروم بچوں کی تعلیمی ذمہ داری بھی ہمارے فرائض میں شامل ہوگئی ہے۔ حالانکہ کورونا کے سبب وہ لوگ جو کارخیر میں ہماری مدد کرتے تھے ان کے ہاتھ بھی تنگ ہوئے ہیں ، مگر مشکلات کے باوجود ایسے بچوں کی تعلیم کے لئے بہترین سے بہترین مواقع فراہم کریں گے تاکہ یہ طلبہ اپنے والدین کے خواب کوپورا کرسکیں ۔ آج ہم نے ان بچوں کی کیریئر کاؤنسلنگ کے ساتھ انہیں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے چیک بھی تقسیم کیا ہے ۔ آئندہ بھی ہمارا یہ سلسلہ اور بہترانداز سے جاری رہے گا۔

    وہیں ممتاز سماجی کارکن ڈاکٹر سیف اللہ ٹیپو کہتے ہیں کہ مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی کا کام بے مثل ہے اور سچ پوچھئے تو سماج کو ایسے ہی اداروں کی ضرورت ہے ، جو قوم کے بچوں کو تعلیم مواقع فراہم کرسکیں ۔ قوم کے تمام مسائل کا علاج تعلیم کے حصول میں ہے ۔ آپ نے علم حاصل کرلیا تو دنیا کی تمام چیزیں آپ کے پاس ہوں گی اور آپ دوسروں کو اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لانے والے بنیں گے ۔

    کیریئر کونسلر ڈاکٹر بشرا حسن کہتی ہیں کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مسلم لڑکیاں پڑھتی نہیں ہیں ، لیکن یہاں آکر دیکھا کہ تعلیم کے لئے مدد لینے والوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے اور یہ سب سماج میں بیداری کے سبب ممکن ہوسکا ہے ۔ ہمارے طلبہ میں بے پناہ صلاحیت ہے ، مگر انہیں صحیح گائیڈنس کی ضرورت ہے اور جب بچوں کو صحیح گائیڈنس مل جاتی ہے تووہ کارنامہ انجام دیتے ہیں کہ دنیا حیرت سے دیکھتی رہ جاتی ہے ۔

    کیریئر کونسلر احمد کمال کہتے ہیں کہ سائنسی انقلابات نے تعلیم کے حصول کو بہت آسان بنادیا ہے ، لیکن اس کے لئے بھی ہمیں تربیت کی ضرورت ہے ۔ حکومت کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کی اسکالرشپ کے لئے بہت کچھ شروع کیا گیا ہے ، لیکن عدم معلومات کے سبب بیشتر اوقات فنڈ لیپس ہو جاتے ہیں ۔ ہم بیدارہوں گے تو نہ صرف حکومت کی فلاحی اسکیم کا فائدہ اٹھائیں گے ، بلکہ دوسروں کو بھی مدد پہنچانے والے بنیں گے۔

    اپنی تعلیم کے لئے چیک لینے کیلئے آئے ارحم کہتے ہیں کہ میرے والد نہیں ہیں ۔ والدہ سے تعلیم کے لئے جو ہوسکتا ہے وہ کرتی ہیں ، لیکن اس سے اسکول کی فیس اور دیگرضرورت پوری نہیں ہوسکتی ہیں ۔ مسلم ایجوکیشن اینڈ کیریئر پروموشن سوسائٹی نے اسکالرشپ کا چیک دیا ہے ، جس سے میں اپنی تعلیم کو پوری کروں گا اور ان شااللہ انہیں مایوسی نہیں ہوگی بلکہ میں اس لائق بنوں گا تاکہ دوسروں کو بھی اسکالرشپ فراہم کرسکوں۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے والی انشا کہتی ہیں کہ میں نے یہاں پر آکر بہت ساری باتیں تعلیم کو لے کر سیکھی ہیں ۔ مجھے تو اماں نے پڑھنے سے منع کردیا تھا ۔ پھر میری دوست نے بتایا کہ یہاں پر پڑھنے کے لئے مدد کی جاتی ہے ، تو میں نے فارم بھرا اور مجھے بھی آج چیک دیا گیا ہے۔ میں بڑی ہوکر ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ میری ماں کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آئے۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: