உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MP News: دھار کی مسجد کمال مولا کو بھوج شالہ بتا کر گیان واپی مسجد کی طرز پر سروے کرائے جانے کا مطالبہ

    MP News: دھار کی مسجد کمال مولا کو بھوج شالہ بتا کر گیان واپی مسجد کی طرز پر سروے کرائے جانے کا مطالبہ

    MP News: دھار کی مسجد کمال مولا کو بھوج شالہ بتا کر گیان واپی مسجد کی طرز پر سروے کرائے جانے کا مطالبہ

    اجین بنا نیو کی مسجد کے تنازعہ کے بعد بھوپال کی جامع مسجد اور اب مدھیہ پردیش کے دھارمیں واقع مسجد کمال مولا کا تنازعہ سامنے آگیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : بنارس کی گیان واپی مسجد کے سروے کا کام شروع ہوتے ہی مدھیہ پردیش کی کئی تاریخی مساجد کو لیکر تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ اجین بنا نیو کی مسجد کے تنازعہ کے بعد بھوپال کی جامع مسجد اور اب مدھیہ پردیش کے دھارمیں واقع مسجد کمال مولا کا تنازعہ سامنے آگیا ہے ۔ ہندو تنظیموں کے ذریعہ مسجد کمال مولا کو نہ صرف راجہ بھوج کی بھوج شالہ سے تعبیر کیا جارہا ہے بلکہ ہندوتنظیموں کے ذریعہ اس معاملے کو لیکر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے  گیان واپی مسجد کی طرز پر سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ وہیں  مسلم تنظیموں نے بھی عدالت جانے کے لئے تیاری شروع کردی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: 'کشمیری پنڈتوں کی خدمات کا ذکر کئے بغیر نہیں لکھی جا سکتی ہے اردو زبان و ادب کی تاریخ'


    مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع قدیم مسجد کمال مولاکو لیکر ہری شنکر جین نے اندور کورٹ میں عرضی دائر کی ہے ۔ ہری شنکر جین وہی ہیں جنہوں نے گیان واپی مسجد معاملے کو لیکر بھی عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔ ہری شنکر جین کا کہنا ہے کہ دھار میں واقع مسجد کمال قدیم راجہ بھوج کی بھوج شالہ ہے۔ بھوج شالہ کے سبھی ثبوت موجود ہیں اور اسی کے ساتھ ہم نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ اس کا سروے کرایا جائے ۔ سروے کرائے جانے کے بعد ساری حقیقت سامنے آجائے گی۔

    مسجد کمال مولا کو راجہ بھوج کی بھوج شالہ بتائے جانے پر مسلم تنظیموں میں جہاں ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے تو وہیں مسلم سماج دھار کےصدر عبدالصمد کہتے ہیں کہ ابھی تک عدالت سے اس تعلق سے انہیں کوئی نوٹس نہیں ملا ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعہ ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ مسجد کو بھوج شالہ بتاتے ہوئے اندور کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے ۔ مسجد کو لیکر ہمارے یہاں جو بھی دستاویز ہیں، انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بھوپال کی تاریخی جامع مسجد پر سنسکرتی بچاؤ منچ نے کیا شیومندر ہونے کا دعوی


    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر گیان واپی مسجد بنارس کے بعد مدھیہ پردیش کی کئی مساجد کو لیکر ہندو تنظیموں کے ذریعہ شروع کئے گئے تنازعہ کو سازش کاحصہ بتا تے ہیں ۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کا کہنا ہے کہ دھار کی مسجد کمال مولا کو لیکر جمعیت علما عدالت سے نہ صرف رجوع کرے گی بلکہ عدالت میں پوری طاقت کے ساتھ اپنا موقف پیش کرے گی ۔ اسی کے ساتھ ہم مرکزی اور صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تاریخی مساجد کو لیکر انیس سو اکیاون کے اسٹیٹس کو نافذ کیا جائے ۔

    واضح رہے کہ دھار میں مسجد کمال مولا کی تعمیر عہد خلجی میں کی گئی تھی، لیکن آٹھ سو سال بعد اس معاملے کو لے کر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما اور مسلم سماج تنظیم کے ذریعہ اس معاملے میں مدھیہ پردیش کی سطح پر تحریک چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تاکہ صوبہ کی دیگر مساجد کے دستاویز کو لیکر کمیٹیوں کو آگاہ کیا جاسکے اور وقت آنے پر عدالت میں پوری طاقت کے ساتھ اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: