ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : سنگلا خ زمینوں پر گل بوٹے تراشنے والے شاعر ظفر نسیمی کا انتقال، ادبی فضا سوگوار

ظفر نسیمی نے اردو شاعری میں غزل ، نظم ، رباعی اور قطعات میں اپنے فن کے جوہر دکھائے تھے ۔ فن تاریخ گوئی پر انہیں عبور حاصل تھا ۔ ظفر نسیمی کے شعری مجموعہ پتھر کی لکیر اور ٹک ٹک دیم کے نام سے شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں خوب پسند کیاگیاتھا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : سنگلا خ زمینوں پر گل بوٹے تراشنے والے شاعر ظفر نسیمی کا انتقال، ادبی فضا سوگوار
مدھیہ پردیش : سنگلا خ زمینوں پر گل بوٹے تراشنے والے شاعر ظفر نسیمی کا انتقال، ادبی فضا سوگوار

بھوپال : کورونا قہر میں اردو شعر و ادب کے کتنے گوہرنایاب ہم سے دور ہوگئے ہیں اس کا بیان کرنے بیٹھئے تو کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔ ایک کے جانے کا غم ہلکا بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسرے کے جانے کی خبر آجاتی ہے ۔ بھوپال کے ممتاز استاد شاعر ظفرنسیمی بھی آج ہمیں داغ مفارقت دے کر جہانی فانی سے رخصت ہو گئے۔ ظفر حسین فاروقی کا قلمی نام ظفر نسیمی تھا۔ ظفر نسیمی کی ولادت  چوبیس ستمبر انیس سو اکتیس کو بھوپال میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے مکتبہ فرقانیہ  شاہجہاں آباد بھوپال سے حاصل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے رفیقیہ اور برجیسیہ اسکول سے تعلیم حاصل کی ۔انیسو سو اڑتالیس میں شاہجہانی ماڈل اسکول سے ہائی اسکول اور انیس سو پچاس میں گورنمنٹ حمیدیہ اسکول سے انٹر میڈیٹ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے انیس سو باون میں بی کام اور انیس سو چوون میں ایم پی کی ڈگری حاصل کی۔ ظفرنسیمی نے محکمہ فوڈ اینڈ سول سپلائی سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ بعد از انہوں نے انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ ڈیپارٹمنٹ سے وابستگی اختیار کی اور یہیں سے تیس ستمبر انیس سو نواسی کو وظیفہ حسن خدمت پر ریٹائر ہوئے ۔


ظفر نسیمی کی زندگی کے مقناطیسی پہلو تھے ۔ وہ منفرد لب و لہجہ کے استاد شاعر کے ساتھ بہترین انشا پرداز اور صحافی تھے ۔ وہ بھاسکر گروپ میں سب ایڈیٹر بھی رہے ہیں ۔ انہوں نے مساجد کمیٹی بھوپال میں بطور مہتمم بھی دوہزار دو سے دوہزار سات تک اپنی خدمات انجام دیں تھیں۔ ظفر نسیمی کی شاعری کا آغاز سولہ سال کی عمر میں انیس سو سینتالیس میں ہوا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے ساحر بھوپالی سے کلام پر اصلاح لی تھی۔ اس کے بعد ترقی پسند تحریک کے ممتاز شاعر جاں نثار اختر کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا اور فارغ الاصلاح ہوئے۔


ظفر نسیمی نے اردو شاعری میں غزل ، نظم ، رباعی اور قطعات میں اپنے فن کے جوہر دکھائے تھے ۔ فن تاریخ گوئی پر انہیں عبور حاصل تھا ۔ ظفر نسیمی کے شعری مجموعہ پتھر کی لکیر اور ٹک ٹک دیم کے نام سے شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں خوب پسند کیاگیاتھا۔ انہوں نے سفر حج پر ایک کتابچہ بھی انگریزی زبان میں تحریر کیاتھا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ فارسی میں بھی بہترین اشعار کہے تھے۔ظفر نسیمی کی نماز جنازہ بھوپال مسجد یعقوب خان میں ادا کی گئی اور انہیں بھوپال بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔


بھوپال کے ممتاز شاعر بدر واسطی کہتے ہیں کہ ظفر نسیمی کا انتقال فرد واحد کا انتقال نہیں ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے اپنی حیات میں اردو شعرو ادب کی جو خدمت کی ہے ، نوجوان نسل کی جس طرح سے انہوں نے ادبی سرپرستی کی ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ ظفر نسیمی کی شاعری میں جو کلاسیکی رچاؤ تھے وہ اپنے قاری کو خود بخود اپنی جانب کھینچ لیتا تھا ۔ ان کی شاعری صرف محبوب کے زلف و رخسار کا قصیدہ نہیں تھی بلکہ انہوں نے زمانے کے مسائل کو اپنی شاعری میں اس طرح بیان کیا تھا کہ وہ دستاویزی حیثیت کی حامل بن گئی تھیں ۔ ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ظفر نسیمی کو جوار ئے رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 29, 2021 10:25 PM IST