உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : بھوپال گیس متاثرہ بیوہ خواتین نے کفن اوڑھ کر کیا احتجاج، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    مدھیہ پردیش : بھوپال گیس متاثرہ بیوہ خواتین نے کفن اوڑھ کر کیا احتجاج، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    مدھیہ پردیش : بھوپال گیس متاثرہ بیوہ خواتین نے کفن اوڑھ کر کیا احتجاج، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    گیس پیڑٹ نراشت پینشن بھوگی مورچہ کے صدر بال کرشن نامدیو کہتے ہیں کہ اس حکومت نے عدم توجہی کی حد کردی ہے ۔ کابینہ میں منظوری ملنے اور اسمبلی میں بجٹ پاس ہونے کے بعد بھی آج تاریخ میں کسی بھی بیوہ کے اکاؤنٹ میں پینشن نہیں پہنچی ہے ۔ ان بیوہ خواتین نے کفن اوڑھ کو احتجاج اسی لئے کیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : اب اسے گیس متاثرہ بیوہ خواتین کی بد نصیبی کہا جائے یا حکومت کی نیت کا کھوٹ کہ احکام جاری ہونے کے بعد بھی گیس متاثرہ بیوہ خواتین اکیس ماہ سے پینشن سے محروم ہیں ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کے ذریعہ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو تا حیات ایک ہزار روپے ماہانہ پینشن جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ، مگر کورونا قہر میں گیس متاثرہ بیوہ خواتین اکیس ماہ سے پیشن سے محروم ہیں ۔ حکومت کی عدم توجہی سے ناراض ہوکر گیس متاثرہ بیوہ خواتین نے آج کفن اوڑھ کر بھوپال میں احتجاج کیا اور حکومت سے جلد سے جلد پیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو گیس سانحہ پیش آیا تھا ۔ گیس سانحہ میں رپورٹ کے مطابق پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی جب کہ پانچ لاکھ باہتر ہزار تین سو چوہتر لوگ یونین کاربائیڈ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس کے مضر اثرات سے متاثر ہوئے تھے ۔ ابتدائی سالوں میں گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو پیشن جاری کی گئی اور دوہزار سولہ میں شیوراج سنگھ حکومت میں پیشن بند کردی گئی ۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کے احتجاج شیوراج سنگھ حکومت نے پیشن پھر جاری کی مگر یہ پیشن کمل ناتھ حکومت میں پھر بند کردی گئی ۔اور مارچ دوہزار بیس شیوراج سنگھ کی قیادت میں بی جے پی جب پھر سے اقتدار میں آئی تو تین دسمبر دوہزار بیس کو گیس سانحہ کی برسی پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ گیس متاثرہ بیوہ خواتین سے ملاقات کرکے انہیں تاحیات ایک ہزار روپیہ ماہانہ پینشن جاری کرنے کا اعلان کیا۔

    ستم یہ ہوا کہ حکومت اپنے اعلان کو بھول گئی ۔ نیوز ایٹین اردو کی یکم جولائی دوہزار اکیس کی خبر کے بعد حکومت بیدار ہوئی اور اس نے تیرہ جولائی کی کابینہ میٹنگ میں گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو پینشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ دس اگست کو اسمبلی کے مانسون سیشن میں اس کے پانچ کروڑ چالیس کا بجٹ بھی پاس ہوا مگر پیشن ابھی تک جاری نہیں ہوسکی ۔

    گیس پیڑٹ نراشت پینشن بھوگی مورچہ کے صدر بال کرشن نامدیو کہتے ہیں کہ اس حکومت نے عدم توجہی کی حد کردی ہے ۔ کابینہ میں منظوری ملنے اور اسمبلی میں بجٹ پاس ہونے کے بعد بھی آج تاریخ میں کسی بھی بیوہ کے اکاؤنٹ میں پینشن نہیں پہنچی ہے ۔ ان بیوہ خواتین نے کفن اوڑھ کو احتجاج اسی لئے کیا ہے ۔ تاکہ حکومت کو معلوم ہوسکے کہ کورونا قہر میں ان کی زندگی نیم مردہ جیسی ہوچکی ہے اور اگر حکومت نے یہ معمولی پینشن بھی جاری نہیں کی تو اب ان کے گھر سے بھکمری میں جنازہ ہی اٹھے گا ۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ حکومت اپنے عہد پر پابند ہے ۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کی پیشن جاری کرنے کا کام جاری ہے ۔ سرکاری احکام کے عمل درآمد میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ کانگریس کی کمل ناتھ حکومت نہیں بلکہ شیوراج سنگھ کی حکومت ہے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: