ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال گیس متاثرین کا درد لا علاج

دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال میں واقع یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے صرف اسی رات لوگ نہیں مرے تھے بلکہ زہریلی گیس کے مضر اثرات آج بھی باقی ہیں۔ زہریلی گیس کا اثر اب تیسری نہیں بلکہ چوتھی پیڑھی تک پہنچ گیا ہے جس کے سبب کارخانے کے پاس آباد بیالیس بستیوں کا زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے اور اس علاقہ میں رہنے والے گیس متاثرین کے یہاں بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔

  • Share this:
بھوپال گیس متاثرین کا درد لا علاج
گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم چنگاری کی ڈاکٹر نوشین خان کہتے ہیں کہ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چوراسی کی رات اور آج کی رات میں ہمارے لئے کوئی فرق نہیں ہے۔

بھوپال۔ دو اور تین دسمبر 1984 کی درمیانی رات بھوپال پر قیامت صغرا بن کر آئی تھی۔ کہنے کو اس سیاہ رات کے دو دسمبر کو چھتیس سال مکمل ہو جائیں گے اور تین دسمبر کی صبح سینتسویں سال کا آغاز ہو جائے گا۔ عام لوگ اس حادثہ کو جس طرح  سے بھول چکے ہیں ہماری حکومتوں نے بھوپال گیس متاثرین کے مسائل کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے۔ مگر جب گیس متاثرین اس چھتیس سال کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ خود کو ٹھگا ہوا پاتے ہیں اور اپنوں کے ستم کو سہتے سہتے انکی آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہوچکے ہیں۔


دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال میں واقع یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے صرف اسی رات لوگ نہیں مرے تھے بلکہ زہریلی گیس کے مضر اثرات آج بھی باقی ہیں۔ زہریلی گیس کا اثر اب تیسری نہیں بلکہ چوتھی پیڑھی تک پہنچ گیا ہے جس کے سبب کارخانے کے پاس آباد بیالیس بستیوں کا زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے اور اس علاقہ میں رہنے والے گیس متاثرین کے یہاں بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔


بھوپال گیس سانحہ اور اس کے متاثرین کے علاج و معاوضہ کے نام پر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے عدالت کے باہر کمپنی سے سمجھوتہ کیا اور اس سمجھوتے میں تین ہزار اموات اور ایک لاکھ دو ہزار زخمیوں کے نام پر پیسہ لیاگیا۔ مگر جب سپریم کورٹ نے اپنی فہرست جاری کی تو یہ تعداد راجیو گاندھی کے ذریعہ کئے گئے سمجھوتے سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس حادثہ میں اس رات پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت اور پانچ لاکھ بہتر ہزار تین سو چوہتر لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گیس متاثرین اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں اور حکومت سے پانچ گنا معاوضہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔




کہنے کو حادثہ کو بیتے ہوئے چھتیس سال کا عرصہ ہوگیا ہے مگر یونین کاربائیڈ کارخانہ میں زہریلا کچرا آج بھی ہزاروں میٹرک ٹن موجود ہے۔ گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم چنگاری کی ڈاکٹر نوشین خان کہتے ہیں کہ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چوراسی کی رات اور آج کی رات میں ہمارے لئے کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم نے چھتیس سال صرف انتظار میں گزارے ہیں ۔ معاوضہ کے نام پر حادثہ کے پچیس سال بعد زخمیوں کو پچیس پچیس ہزار روپیہ اور جن لوگوں کی موت ہوئی تھی انکے گھر والوں کو ایک ایک لاکھ کا معاوضہ دیا گیا۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ معاوضہ صوبائی حکومت یا مرکزی حکومت کے ذریعہ نہیں ادا کیاگیا بلکہ کمپنی نے جو پانچ سو ستر بلین ڈالر دئیے تھے اس کو پہلے بینک میں جمع کیاگیا اور پھر اس کو پچیس سال بعد تقسیم کیا گیا اور اس کے سود کے پیسے سے گیس متاثرین کےعلاج کے لئے اسپتال بنائے گئے ۔ مگر یہ اسپتال بھی بیمار ہیں۔ اسپتال تو ہیں مگر اس میں ڈاکٹر نہیں ہیں۔ مشینیں ہیں مگر انہیں چلانے والے ماہرین نہیں ہیں۔ تیسری اور چوتھی پیڑھی میں بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں مگر اس کی جانب کوئی پوچھنے اور دیکھنے والا نہیں ہے۔

گیس راحت اسپتال میں کام کرنے والے عامر ہاشمی کہتے ہیں کہ گیس راحت اسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہوں میں کورونا قہر میں بڑی کمی کر دی گئی ہے۔ جن ملازمین کو پچیس چھبیس ہزار روپیہ ماہانہ ملتے تھے ان کی تنخواہیں گھٹا کر سات ہزار آٹھ ہزار کر دی گئی ہیں۔ اب بتائیں ایسے میں گیس متاثرین اور ملازمین کہاں جائیں۔ بات کورونا کی کی جا رہی ہے مگر سارے کام جاری ہیں۔ شادی بیاہ میں بھی سو دو سو لوگ شرکت کر سکتےہیں مگر گیس متاثرین کو جلسے جلوس نکالنے تک اجازت نہیں ہے۔ ہمیں اپنی خشک آنکھوں سے ہی اپنوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہو گا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 01, 2020 05:47 PM IST