اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس متاثرین نے کینڈل مارچ نکال کرپیش کی خراج عقیدت

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس متاثرین نے کینڈل مارچ نکال کرپیش کی خراج عقیدت

    مدھیہ پردیش: بھوپال گیس متاثرین نے کینڈل مارچ نکال کرپیش کی خراج عقیدت

    Madhya Pradesh News: دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ بھوپال گیس سانحہ کو آج اڑتیس سال مکمل ہوگئے ۔ تین دسمبر کی صبح گانتالیسویں سال کا آغاز ہوجائے گا مگر گیس متاثرین کے لئے اس سیاہ رات اور آج اڑتیس سال بعد کی رات میں کوئی فرق نہیں ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal
    • Share this:
    بھوپال : دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ بھوپال گیس سانحہ کو آج اڑتیس سال مکمل ہوگئے ۔ تین دسمبر کی صبح گانتالیسویں سال کا آغاز ہوجائے گا مگر گیس متاثرین کے لئے اس سیاہ رات اور آج اڑتیس سال بعد کی رات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانہ سے اس رات نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تھی مگر اڑتیس سال بعد اس کے مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں۔ کہنے کو حکومت کی جانب سے گیس متاثرین کے علاج کے لئے اسپتال اور ڈسپنسریاں تو قائم کی گئیں ہیں لیکن ان اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو خود علاج کی ضرورت ہے۔ اسپتالوں میں دوا ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی نہیں ہیں جس کی وجہ سے گیس متاثرین کے مسائل اور بڑھتے جارہے ہیں۔ گیس سانحہ کی اڑتیسویں برسی پر بھوپال گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن کے ذریعہ یادگار شاہجانی پارک سے کینڈل مارچ نکال کر حادثہ کے مہلوکین کو جہاں خراج عیقدت پیش کی گئی وہیں گیس متاثرین کے مسیحا عبدالجبار کے نام سے بھوپال میں یادگار قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیاگیا۔

    بھوپال میں گیس متاثرین کے لئے جب کسی تحریک کی بات کی جاتی ہے تو سب کی زبان پر عبد الجبار کا نام نمایاں ہوتا ہے ۔ عبدالجبار کی عزیم قربانی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے ذریعہ بعد از مرگ انہیں پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیاگیا۔ مرحوم عبدالجبار کی اہلیہ سائرہ عبد الجبار نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس سانحہ اور اس کے متاثرین کی لڑائی اب تیسری اور چوتھی پیڑھی لڑرہی ہے۔ آج اس حادثہ کے اڑتیس سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن ہم گیس متاثرین کے لئے اس سیاہ رات اور آج کی رات میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ۔ ہم لوگ حکومتوں سے سونے چاندی کا تمغہ نہیں مانگ رہے ہیں ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ گیس متاثرین کا صحیح علاج ہو سکے اور انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے۔ حکومت نے عبد الجبار صاحب کو بعد از مرگ پدم شری تودیا لیکن جس شخص نے گیس متاثرین کے حقوق کے لئے اپنی زندگی قربان کردی اس کی یادگار آج تک قائم نہیں کی گئی۔ ہم گیس متاثرین چاہتے ہیں کہ گیس پیڑتوں کے مسیحا عبدالجبار کی یادگار قائم ہو،ان کی یاد میں اسپتال قائم کیا جائے جہاں پر سب کو علاج مل سکے ۔

    یہ بھی پڑھئے : پی سی بی چیف نے پھر بی سی سی آئی کو دی دھمکی، کہا: اگر ایشیا کپ پاکستان کے باہر ہوا تو...


    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر : دہشت گردوں کے ٹھکانہ کا پردہ فاش، اے کے 47 ، پستول اور ڈرگس کا ذخیرہ ملا


    وہیں گیس حادثہ کی ثشم دید گواہ ریئسہ بی کہتی ہیں کہ گیس متاثرین کے ساتھ ان کی اپنی حکومتوں نے ہر قدم پر دھوکہ دینے کا کام کیا ہے۔۰ اگر حکومتوں نے گیس متاثرین کے علاج و معاوضہ کے لئے کام کیا ہوتا تو آج حادثہ کے اڑتیس سال بعد گیس متاثرین کے زحم ہرے نہیں ہوتے۔ وہیں گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن کے کنوینر شاہور خان کہتے ہیں کہ پہلے اس تحریک کو ہمارے والدہ اور ماموں عبدالجبار چلاتے تھے اب دونوں اس دنیا میں نہیں ہے اور ہم لوگ اس تحریک کوزندہ کئے ہوئے ہیں تاکہ گیس متاثرین کو ان کا حق مل سکے ۔ ہمیں حکومتوں سے کوئی امید نہیں ہے ۔ہمیں ابتک جو کچھ بھی ملا ہے وہ  عدالت سے ملا ہے اس لئے ہماری ساری توجہ عدالت کی جانب ہے۔

    وہیں سماجی کارکن شیلندر شیلی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس متاثرین کے مسائل پر جب نطر جاتی ہے اور حکومت کا چہرہ سامنے آ؍تا ہے تو ہمیں شرم آتی ہے ۔ ہماری سرکاروں نے ملٹی نیشنل کمپینوں کے مفاد کو پورا کرنے کے لئے ہر قدم پر گیس متاثرین کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے ۔ہم بھی ٹھکنے والے نہیں ہیں۔ اڑتیس سال بعد بھی ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں ۔ہم سب مل کر اس معاملے کو لیکر آگے بھی تحریک جاری رکھیں گے تاکہ گیس متاثرین کو ان کا حق مل سکے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: