உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : محنت سے ملی منزل ، بھوپال کی ہما خان اور اسمرتی شکلا نے قائم کی مثال

    مدھیہ پردیش : محنت سے ملی منزل ، بھوپال کی ہما خان اور اسمرتی شکلا نے قائم کی مثال

    مدھیہ پردیش : محنت سے ملی منزل ، بھوپال کی ہما خان اور اسمرتی شکلا نے قائم کی مثال

    ہما خان نے آج سے پندرہ سال قبل جب تعلیم حاصل کرکے بھوپال کے قدیم فن زری زردوزی کے میدان میں قدم آگے بڑھایا تو مشکلوں نے ان کی راہ میں ہر قدم پر روکاوٹیں پیدا کیں ، مگر ہما خان اور اسمرتی شکلا نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف بھوپال اور مدھیہ پردیش بلکہ بیرون ملک میں بھی زری و زردوزی کو متعارف کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال : انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی منزل اس کے لئے مشکل نہیں ہوتی ہے۔ بھوپال کی ہما خان اور اسمرتی شکلا نے بھی اپنے آہنی ارادے سے اپنا مقام حاصل کرکے بتایا دیا کہ خواتین اپنی لیاقت اور صلاحیت میں  کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہما خان نے آج سے پندرہ سال قبل جب تعلیم حاصل کرکے بھوپال کے قدیم فن زری زردوزی کے میدان میں قدم آگے بڑھایا تو مشکلوں نے ان کی راہ میں ہر قدم پر روکاوٹیں پیدا کیں ، مگر ہما خان اور اسمرتی شکلا نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف بھوپال اور مدھیہ پردیش بلکہ بیرون ملک میں بھی زری و زردوزی کو متعارف کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ہماخان کو ان کے اس کام کے لئے مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ صوبائی اعزاز سے بھی سرفراز کیا جا چکا ہے ۔

    بھوپال کی ہما خان کہتی ہیں کہ زری اور زردوزی نوابی عہد میں بھوپال کی شان ہوا کرتی تھی ۔ بیگمات بھوپال نے اس فن کی خوب سرپرستی کی تھی ، لیکن عدم توجہی کے سبب یہ فن موجودہ میں دم توڑ رہا ہے ۔ تعلیم حاصل کرنے کےبعد اس فن میں مجھے اپنا کریئر نظر آیا اور میں نے اس فن کو سیکھ کرآگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ ابتداء میں اس کام میں بہت سے روکاوٹیں آئیں ، لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ اب تک گزشتہ پندرہ سالوں میں دوہزار سے زیادہ خواتین کو زری وزردوزی کا کام سکھا کر انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کردیا ہے۔ خواتین تعلیم کے ساتھ  ہنر سے آراستہ ہوکر اپنی اور اپنے گھر کی کفالت میں شامل ہونا چاہتی ہیں ، مگر انہیں موقع نہیں ملتا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں جتنی بھی بہنیں کام سیکھ کر گئی ہیں ، ان میں سے سبھی برسرروزگار ہیں اور اپنے فن سے اپنی اور اپنے گھر کی کفالت کر رہی ہیں ۔

    ہما خان بھوپال میں ساتھیا ویلفیئر سوسائٹی کے ذریعہ خواتین میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ انہیں ہنر سے آراستہ کرنے کا کام کر رہی ہیں ۔ ہما خان کی معاون اسمرتی شکلا کہتی ہیں کہ ہم لوگ یہاں آنے والی خواتین کو صرف ہنر سے ہی آراستہ نہیں کر رہی ہیں بلکہ انہیں تعلیم سے بھی آراستہ کر رہی ہیں ۔ بہت سے خواتین جنہوں نے مالی مشکلات کے سبب تعلیم کا سلسلہ ختم کردیا تھا ، انہیں نیشنل اوپن اسکول اور اگنو کے ذریعہ تعلیم دینے کے ساتھ ہنر سے آراستہ کیا جا رہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سبھی کے تعاون اور تعلیم کے ساتھ ہنر دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ آج زری زردوزی سے بنے ہوئے سامان صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی ان کی فروخت ہو رہی ہے ۔ ہم لوگوں کی کوشش سے نہ صرف بھوپال کا قدم فن دوبارہ زندہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے خواتین کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہو رہے ہیں ۔ خواتین کسی سے بھی صلاحیت میں کم نہیں ہیں ، بس انہیں ضرورت ہے تو موقع دینے کی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: